السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1500. -- باب: من كره النعي والإيذان والقدر الذي لا يكره منه
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے موت کی خبر دینے اور اعلان کرنے کو مکروہ سمجھا ہے اور اس مقدار کا بیان جس میں کراہت نہیں ہے
حدیث نمبر: 7181
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كُنَّا مَقْدِمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حَضَرَ مِنَّا الْمَيِّتُ آذَنَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَضَرَهُ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ حَتَّى إِذَا قُبِضَ انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ وَرُبَّمَا قَعَدَ وَمَنْ مَعَهُ حَتَّى يُدْفَنَ، وَرُبَّمَا طَالَ حَبْسُ ذَلِكَ عَلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَشِينَا مَشَقَّةَ ذَلِكَ عَلَيْهِ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِبَعْضٍ: لَوْ كُنَّا لَا نُؤْذِنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَحَدٍ حَتَّى يُقْبَضَ فَإِذَا قُبِضَ آذَنَّاهُ وَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ فِي ذَلِكَ مَشَقَّةٌ وَلَا حَبْسٌ فَفَعَلْنَا ذَلِكَ فَكُنَّا نُؤْذِنُهُ بِالْمَيِّتِ بَعْدَ أَنْ يَمُوتَ فَيَأْتِيَهُ وَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَرُبَّمَا انْصَرَفَ وَرُبَّمَا مَكَثَ حَتَّى يُدْفَنَ الْمَيِّتُ فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ حِينًا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ لَمْ نُشْخِصِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَلْنَا جِنَازَتَنَا إِلَيْهِ حَتَّى يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عِنْدَ بَيْتِهِ لَكَانَ ذَلِكَ أَرْفَقَ بِهِ فَفَعَلْنَا فَكَانَ ذَلِكَ الْأَمْرُ إِلَى الْيَوْمِ".
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ) تشریف لائے تھے تو جب ہم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور اس کے لیے استغفار کرتے۔ جب وہ فوت ہوجاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی واپس چلے جاتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن ہونے تک بیٹھ جاتے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ٹھہرنا زیادہ ہوجاتا۔ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت سے ڈرے تو کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا کہ کیوں نہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تب اطلاع کریں جب آدمی فوت ہوجائے، پھر جب وہ فوت ہوجاتا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرتے اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت نہ ہوتی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ رکنا پڑتا، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میت کے فوت ہونے کے بعد اطلاع دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آتے اور جنازہ پڑھتے، کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے جاتے اور کبھی میت کے دفن تک رک جاتے۔ پھر ہم کچھ عرصہ ایسے ہی کرتے رہے۔ پھر ہم نے کہا: اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زحمت نہ دیں اور جنازہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے پاس ہی اس کا جنازہ پڑھیں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ آسان ہوگا۔ پھر ہم نے ایسا ہی کیا اور وہ معاملہ آج تک ایسے ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7181]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7181 in Urdu