🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1538. -- باب: من تجب عليه الصدقة
-- باب: اس شخص کا بیان جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7347
فَأَمَّا مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" مَنْ وَلِيَ مَالَ يَتِيمٍ فَلْيَحْصِ عَلَيْهِ السِّنِينَ، فَإِذَا دَفَعَ إِلَيْهِ مَالَهَ أَخْبَرَهُ بِمَا فِيهِ مِنَ الزَّكَاةِ، فَإِنْ شَاءَ زَكَّى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ وَغَيْرُهُ عَنْ لَيْثٍ. وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي مُنَاظَرَةٍ جَرَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ خَالَفَهُ وَجَوَابُهُ عَنْ هَذَا الْأَثَرِ: مَعَ أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ هَذَا لَيْسَ بِثَابِتٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مِنْ وَجْهَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ وَأَنَّ الَّذِي رَوَاهُ لَيْسَ بِحَافِظٍ ⦗١٨٢⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَجِهَةُ انْقِطَاعِهِ أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ، وَرَاوِيهِ الَّذِي لَيْسَ بِحَافِظٍ هُوَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ. وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا أَنَّهُ يَتَفَرَّدُ بِإِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو یتیم کے مال کا ولی بنے اور کئی سالوں تک اسے شمار کرے تو جب مال اسے لوٹائے تو اسے آگاہ کر دے کہ اتنی زکاۃ بنتی ہے، اگر وہ چاہے تو زکاۃ ادا کرے اگر نہ چاہے تو نہ ادا کرے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس مناظرے میں جو ان کا مخالف سے ہوا اس اثر کے بارے میں ان کا جواب یہ تھا کہ تیرا خیال ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں دو اعتبار سے: ایک یہ کہ وہ منقطع ہے، دوسرا جس سے بیان کی ہے اس کا حافظہ نہیں۔ شیخ نے کہا: اس کے انقطاع کی وجہ یہ ہے کہ مجاہد نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ اور اس کا وہ راوی جو حافظ نہیں، لیث بن ابی سلیم ہے، جسے اہلِ علمِ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور یہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، مگر اس کی سند بیان کرنے میں ابن لہیعہ منفرد ہے، اور ابن لہیعہ سے حجت نہیں لی جاتی۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7347]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں