السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1544. -- باب: أين تؤخذ صدقة الماشية
-- باب: مویشیوں کی زکوٰۃ کہاں لی جائے گی اس کا بیان
حدیث نمبر: 7360
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَامَ الْفَتْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ قَالَ:" لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو فتح مکہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا، آگے پوری حدیث بیان کی اور اس میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”نہ جلب ہے (یعنی جانوروں کو عامل کے پاس کھینچ لانا) اور نہ جنب ہے (یعنی انہیں دور لے جانا) اور نہ وصول کی جائے زکوٰۃ مگر ان کے گھروں میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7360]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7361
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي قَوْلِهِ: لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ قَالَ:" أَنْ تُصْدَقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبُ إِلَى الْمُصَدِّقِ، وَالْجَنَبُ عَنْ هَذِهِ الطَّرِيقَةِ أَيْضًا لَا تَجَنُّبُ أَصْحَابِهَا يَقُولُ: وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ".
یعقوب بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا جو محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ» ”نہ جلب ہو اور نہ جنب ہو“ اس سے مقصود یہ ہے کہ چرنے والے جانوروں کی زکوۃ ان کی جگہ پر لی جائے اور انہیں عامل کی طرف نہ لے جایا جائے، اور «جَنَب» سے مراد اسی طریقے سے یہ ہے کہ اس کے مالک اسے ایک طرف پر نہ لے جائیں اور یہ کہ اسے صدقہ لینے والوں کی جگہ سے ایک طرف اور ان سے دور نہ کیے جائیں، بلکہ ان کی زکوۃ اسی جگہ لی جائے جہاں وہ رہتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7361]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7362
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ مِيَاهِهِمْ أَوْ عِنْدَ أَفْنِيَتِهِمْ" شَكَّ أَبُو دَاوُدَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں کے پاس لی جائے یا پھر ان کے صحنوں میں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7362]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7363
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَى مِيَاهِهِمْ بِأَفْنِيَتِهِمْ" لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَالِحٍ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ مِنْ ⦗١٨٦⦘ أَمْوَالِهِمْ عَلَى مِيَاهِهِمْ وَأَفْنِيَتِهِمْ، وَقَالَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَزْمٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیہات والوں کی زکوٰۃ ان کے پانیوں کے گھاٹ یا ان کے باڑوں میں لی جائے۔“
ایک روایت میں ہے کہ ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں یا باڑوں میں لی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7363]
ایک روایت میں ہے کہ ”مسلمانوں کے اموال کی زکوٰۃ ان کے پانیوں یا باڑوں میں لی جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7363]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الطبراني في الاوسط»
الحكم على الحديث: صحيح