السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1546. -- باب: تعجيل الصدقة
-- باب: زکوٰۃ جلد ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q7365
اعْتَمَدَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَمِينِ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، ثُمَّ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبَّمَا كَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ وَرُبَّمَا كَفَّرَ بَعْدَ مَا يَحْنَثُ وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الْأَيْمَانِ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَدْرِي أَيَثْبُتُ أَمْ لَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَلَّفَ صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، يَعْنِي بِهِ مَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم کے متعلق ثابت اس فرمان پر اعتماد کیا ہے: ”پس اسے چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے جو بہتر ہو۔“
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: Q7365]
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: Q7365]
حدیث نمبر: 7365
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکوٰۃ کی جلد ادائیگی کا سوال کیا اس کے واجب ہونے سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7366
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ هُشَيْمٍ أَصَحُّ. ⦗١٨٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ فَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الْحَكَمِ هَكَذَا، وَخَالَفَهُ إِسْرَائِيلُ عَنْ حَجَّاجٍ فَقَالَ: عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ عَنْ عَلِيٍّ، وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ:" إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ زَكَاةَ الْعَامِ عَامَ الْأَوَّلِ" وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ هُوَ الْعَرْزَمِيُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ عُمَرَ وَالْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا. وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ طَلْحَةَ وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ عَنِ الْحَكَمِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ:" إِنَّا كُنَّا قَدْ تَعَجَّلْنَا صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ لِعَامِنَا هَذَا عَامَ أَوَّلَ" وَهَذَا هُوَ الْأَصَحُّ مِنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
ابوداؤد رحمہ اللہ نے سعید بن منصور رحمہ اللہ سے یہ حدیث بیان کی اور اس پوری حدیث کا تذکرہ کیا۔
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”ہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے ایک سال کی زکاۃ پہلے وصول کر لی ہے،“ نیز عمر و عباس رضی اللہ عنہما کے قصے میں یہ بات بھی منقول ہے کہ ”ہم عباس رضی اللہ عنہ کے مال کا صدقہ لینے میں جلدی کرتے تھے، اس سال میں آنے والے سال کی زکاۃ لے لیتے۔“
یہ (آخری مرسل) روایت ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7366]
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”ہم نے عباس رضی اللہ عنہ سے ایک سال کی زکاۃ پہلے وصول کر لی ہے،“ نیز عمر و عباس رضی اللہ عنہما کے قصے میں یہ بات بھی منقول ہے کہ ”ہم عباس رضی اللہ عنہ کے مال کا صدقہ لینے میں جلدی کرتے تھے، اس سال میں آنے والے سال کی زکاۃ لے لیتے۔“
یہ (آخری مرسل) روایت ان روایات میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7366]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7367
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْكُدَيْمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ قِصَّةً فِي بَعْثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَاعِيًا وَمَنْعِ الْعَبَّاسِ صَدَقَتَهُ، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ الْعَبَّاسُ فَقَالَ:" أَمَا عَلِمْتَ يَا عُمَرُ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ إِنَّا كُنَّا احْتَجْنَا فَاسْتَسْلَفْنَا الْعَبَّاسَ صَدَقَةَ عَامَيْنِ" لَفْظُ حَدِيثِ الْقَطَّانِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجَّلَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ عَامٍ أَوْ صَدَقَةَ عَامَيْنِ وَفِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَدْ وَرَدَ هَذَا الْمَعْنَى فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ وَجْهٍ ثَابِتٍ عَنْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عامل بنا کر بھیجا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ نہ دی اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی جو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! کیا تم جانتے نہیں کہ چچا باپ کی قسم ہوتا ہے؟ ہم ضرورت محسوس کرتے تو عباس (رضی اللہ عنہ) سے دو سال کی زکوٰۃ ادھار لے لیتے تھے۔“
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ایک یا دو سال کی زکوٰۃ پہلے وصول کر لی۔
اس سند میں ابوالبختری اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7367]
ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے ایک یا دو سال کی زکوٰۃ پہلے وصول کر لی۔
اس سند میں ابوالبختری اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7367]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7368
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ ⦗١٨٨⦘ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللهُ، وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَعْتُدَهُ وَأَدْرُعَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا" ثُمَّ قَالَ:" يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَفْصٍ بِهَذَا اللَّفْظِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَأَعْتَادُهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا وَمِنْ حَدِيثِ شُعَيْبٍ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ ثُمَّ قَالَ: تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ: هِيَ عَلَيْهِ وَمِثْلُهَا مَعَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَمَا رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ رَوَاهُ أَبُو أُوَيْسٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ وَكَذَلِكَ هُوَ عِنْدَنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ وَحَمَلُوهُ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَخَّرَ عَنْهُ الصَّدَقَةَ عَامَيْنِ مِنْ حَاجَةٍ بِالْعَبَّاسِ إِلَيْهَا، وَالَّذِي رَوَاهُ وَرْقَاءُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ صَدَقَةَ عَامَيْنِ، وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى جَوَازِ تَعْجِيلِ الصَّدَقَةِ، فَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ فَإِنَّهُ يَبْعُدُ مِنَ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا؛ لِأَنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ رَجُلًا مِنْ صُلْبِيَّةِ بَنِي هَاشِمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ الصَّدَقَةُ، فَكَيْفَ يَجْعَلُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَيْهِ مِنْ صَدَقَةِ عَامَيْنِ صَدَقَةً عَلَيْهِ؟ وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَهِيَ لَهُ وَمِثْلُهَا مَعَهَا، وَقَدْ يُقَالُ لَهُ بِمَعْنَى عَلَيْهِ فَرِوَايَتُهُ مَحْمُولَةٌ عَلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ وَقَدْ يَكُونُ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ: فَهِيَ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ وَرْقَاءَ، وَرِوَايَةُ وَرْقَاءَ أَوْلَى بِالصِّحَّةِ لِمُوَافَقَتِهَا مَا تَقَدَّمَ مِنَ الرِّوَايَاتِ الصَّرِيحَةِ بِالِاسْتِسْلَافِ وَالتَّعْجِيلِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو کہا گیا کہ ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہما نے زکوٰۃ نہیں دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن جمیل تو صرف اس بات کا انتقام لے رہا ہے کہ وہ محتاج تھا، اللہ نے اسے غنی کر دیا اور خالد پر تم ظلم و زیادتی کرتے ہو۔ اس نے تو اپنی زرہیں اور (جنگی) سامان اللہ کی راہ میں وقف کر رکھا ہے، لیکن عباس کی زکوٰۃ میرے ذمے ہے اور اتنی مزید۔“ پھر فرمایا: ”اے عمر! کیا تو جانتا نہیں کہ آدمی کا چچا والد کی مانند ہوتا ہے۔“
شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے روایت کی تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ابن اسحاق اور ابو اویس مدنی نے ابوالزناد سے، اور ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا: ”وہ اس کے ذمے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ علماء نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ضرورت کی وجہ سے ان سے دو سال کی زکوٰۃ مؤخر کر دی تھی، اور ورقاء کی روایت اس پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ پیشگی لے لی تھی، اور اس میں زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔ رہی وہ روایت جو شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کی تو اس کا محفوظ ہونا بعید ہے؛ کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خالص بنو ہاشم میں سے تھے جن پر صدقہ حرام ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذمے دو سال کی زکوٰۃ کو انہی پر صدقہ کیسے قرار دیتے؟ اور موسیٰ بن عقبہ نے ابوالزناد سے روایت کیا تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس کے لیے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ”لہ“ کبھی ”علیہ“ کے معنی میں بولا جاتا ہے، لہٰذا ان کی روایت باقی روایات پر محمول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وہ اس پر ہے“ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو، تاکہ یہ ورقاء کی روایت کے موافق ہو جائے، اور ورقاء کی روایت صحیح ہونے کی زیادہ حق دار ہے، کیونکہ یہ ان سابقہ روایات کے موافق ہے جن میں پیشگی لینے اور جلد وصول کرنے کی صراحت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7368]
شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے روایت کی تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ابن اسحاق اور ابو اویس مدنی نے ابوالزناد سے، اور ابن ابی الزناد نے اپنے والد سے روایت کیا: ”وہ اس کے ذمے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ علماء نے اسے اس پر محمول کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی ضرورت کی وجہ سے ان سے دو سال کی زکوٰۃ مؤخر کر دی تھی، اور ورقاء کی روایت اس پر محمول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دو سال کی زکوٰۃ پیشگی لے لی تھی، اور اس میں زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کے جواز کی دلیل ہے۔ رہی وہ روایت جو شعیب بن ابی حمزہ نے بیان کی تو اس کا محفوظ ہونا بعید ہے؛ کیونکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ خالص بنو ہاشم میں سے تھے جن پر صدقہ حرام ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ذمے دو سال کی زکوٰۃ کو انہی پر صدقہ کیسے قرار دیتے؟ اور موسیٰ بن عقبہ نے ابوالزناد سے روایت کیا تو حدیث میں کہا: ”تو وہ اس کے لیے ہے اور اس کے برابر اور بھی۔“ اور ”لہ“ کبھی ”علیہ“ کے معنی میں بولا جاتا ہے، لہٰذا ان کی روایت باقی روایات پر محمول ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وہ اس پر ہے“ سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو، تاکہ یہ ورقاء کی روایت کے موافق ہو جائے، اور ورقاء کی روایت صحیح ہونے کی زیادہ حق دار ہے، کیونکہ یہ ان سابقہ روایات کے موافق ہے جن میں پیشگی لینے اور جلد وصول کرنے کی صراحت ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7368]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7369
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَبْعَثُ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ إِلَى الَّذِي تُجْمَعُ عِنْدَهُ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر اس کی طرف بھیجا کرتے تھے جس کے پاس عید الفطر سے دو یا تین دن پہلے جمع کیا جاتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7369]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح