السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1546. -- باب: تعجيل الصدقة
-- باب: زکوٰۃ جلد ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: Q7365
اعْتَمَدَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِيهِ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَمِينِ فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، ثُمَّ عَلَى مَا ثَبَتَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رُبَّمَا كَفَّرَ عَنْ يَمِينِهِ قَبْلَ أَنْ يَحْنَثَ وَرُبَّمَا كَفَّرَ بَعْدَ مَا يَحْنَثُ وَمَوْضِعُهُ كِتَابُ الْأَيْمَانِ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَدْرِي أَيَثْبُتُ أَمْ لَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَلَّفَ صَدَقَةَ مَالِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ، يَعْنِي بِهِ مَا.
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قسم کے متعلق ثابت اس فرمان پر اعتماد کیا ہے: ”پس اسے چاہیے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور وہ کام کرے جو بہتر ہو۔“
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7365]
پھر ان روایات پر اعتماد کیا ہے جو اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام سے ثابت ہیں، جن میں سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما شامل ہیں، وہ بسا اوقات قسم ٹوٹنے سے پہلے اس کا کفارہ ادا کر دیتے اور بسا اوقات قسم ٹوٹنے کے بعد کفارہ ادا کرتے تھے، اور اس کا (تفصیلی) مقام کتاب الایمان ہے۔
ہمیں ابو سعید نے خبر دی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوالعباس نے حدیث بیان کی، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ربیع نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بھی بیان کی جاتی ہے، اور میں نہیں جانتا کہ یہ ثابت ہے یا نہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے مال کی زکوٰۃ اس کی مدت (حول) پوری ہونے سے پہلے ہی پیشگی لے لی تھی، اس سے مراد وہی ہے جو (بیان ہو چکا ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: Q7365]
حدیث نمبر: 7365
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّ الْعَبَّاسَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ صَدَقَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَحِلَّ فَأَذِنَ لَهُ فِي ذَلِكَ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی زکوٰۃ کی جلد ادائیگی کا سوال کیا اس کے واجب ہونے سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7365]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أبو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7365 in Urdu