السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1565. -- باب: ما ورد في العسل
-- باب: شہد کی زکوٰۃ کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7457
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَرْحَمَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَسَلُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزْقَاقٍ زِقٌّ" تَفَرَّدَ بِهِ هَكَذَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّمِينُ وَهُوَ ضَعِيفٌ قَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُمَا، وَقَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هُوَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شہد کے دس مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ ہے۔“
اسے اس طرح صرف صدقہ بن عبداللہ سمین نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اسے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ نافع سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7457]
اسے اس طرح صرف صدقہ بن عبداللہ سمین نے روایت کیا ہے اور وہ ضعیف ہے، اسے احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ نافع سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7457]
حدیث نمبر: 7458
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتُعِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ لِي نَحْلًا. قَالَ:" أَدِّ الْعُشْرَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا فَحَمَاهُ لِي وَهَذَا أَصَحُّ مَا رُوِيَ فِي وُجُوبِ الْعُشْرِ فِيهِ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا فَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى لَمْ يُدْرِكْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ شَيْءٌ يَصِحُّ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَرَّرٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ يَعْنِي بِذَلِكَ تَضْعِيفَ رِوَايَتِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا فِي الْعَسَلِ.
سیدنا ابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا عشر ادا کر۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کا پہاڑ میرے لیے مخصوص کر دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اس کے لیے مخصوص کر دیا۔
اس (شہد) میں عشر کے وجوب کے بارے میں جو کچھ مروی ہے اس میں یہ سب سے صحیح ہے، اور یہ منقطع ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ مرسل حدیث ہے، سلیمان بن موسیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو نہیں پایا، اور شہد کی زکاۃ کے بارے میں کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں، اس سے ان کی مراد اس کی وہ روایت ضعیف قرار دینا ہے جو وہ زہری سے، وہ ابو سلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شہد کے بارے میں مرفوعاً بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7458]
اس (شہد) میں عشر کے وجوب کے بارے میں جو کچھ مروی ہے اس میں یہ سب سے صحیح ہے، اور یہ منقطع ہے۔ ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ مرسل حدیث ہے، سلیمان بن موسیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کو نہیں پایا، اور شہد کی زکاۃ کے بارے میں کوئی چیز صحیح ثابت نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن محرر متروک الحدیث ہیں، اس سے ان کی مراد اس کی وہ روایت ضعیف قرار دینا ہے جو وہ زہری سے، وہ ابو سلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شہد کے بارے میں مرفوعاً بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7458]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7459
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ الدَّبَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَرَّرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ" أَنْ يُؤْخَذَ مِنَ الْعَسَلِ الْعُشْرُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل یمن کو لکھ بھیجا کہ ”شہد سے عشر وصول کیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7459]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7460
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ:" جَاءَ هِلَالٌ أَحَدُ بَنِي مُتْعَانَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِيَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الْوَادِيَ، فَلَمَّا تَوَلَّى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، ⦗٢١٣⦘ فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَدِّ إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدَّى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُشُورِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ وَإِلَّا فَإِنَّمَا هُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ متعان کے بیٹوں میں سے ہلال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شہد کا عشر لے کر آیا اور عرض کیا: یہ وادی میرے حوالے کر دی جائے جسے سلبۃ کہا جاتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حوالے کر دی۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: ”اگر وہ تمہیں وہ ادا کرے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شہد کی مکھیوں کے عشر میں سے ادا کیا کرتا تھا تو سلبہ (وادی) اس کے لیے مخصوص کر دو، ورنہ یہ تو بارش کی مکھیاں ہیں، جو چاہے ان (کا شہد) کھائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7460]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7461
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ شَبَابَةَ، بَطْنٌ مِنْ فَهْمٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: مِنْ كُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَةٌ. وَقَالَ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيُّ قَالَ: وَكَانَ يَحْمِي لَهُمْ وَادِيَيْنِ زَادَ فَأَدُّوا إِلَيْهِ مَا كَانُوا يُؤَدُّونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَمَى لَهُمْ وَادِيَيْهِمْ. وَرَوَاهُ أَيْضًا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو نَحْوَ ذَلِكَ.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ شبابہ (جو قبیلہ فہم کی ایک شاخ ہے)، پھر اسی طرح حدیث بیان کی اور کہا: ”ہر دس مٹکوں (مشکیزوں) میں سے ایک ہے۔“ سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے انہیں دو وادیاں الاٹ کر رکھی تھیں، تو انہوں نے اس قدر زکاۃ ادا کی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے اور انہوں نے انہیں ان کی دونوں وادیاں بھی الاٹ کر دیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7461]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7462
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ:" قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ" قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السُّرَاةِ. قَالَ:" فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ: لَهُمْ زَكَاةٌ فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى"، فَقَالُوا: كَمْ قَالَ؟ فَقُلْتُ:" الْعُشْرُ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا كَانَ قَالَ: فَقَبَضَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَاعَهُ ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ".
سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری قوم کے جو لوگ اسلام لائے ان کے اموال کے بارے میں لکھ دیں“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھ دیا اور اسے اس پر عامل مقرر کر دیا، پھر مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عامل مقرر کیا اور سعد رضی اللہ عنہ سراۃ والوں میں سے تھے، فرماتے ہیں: وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور میں نے ان سے کہا کہ اس میں زکوۃ ہے۔ بیشک ان پھلوں میں کوئی بھلائی نہیں جن کی زکوۃ ادا نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا: کتنی زکوۃ ہے؟ تو میں نے کہا: ”دسواں حصہ“، پھر میں نے ان سے عشر وصول کیا اور میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس بات سے آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لے لیا اور فروخت کر دیا، پھر اس کی قیمت مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7462]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه أحمد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7463
وَأَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ أَبُو ضَمْرَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، فِي الْعَسَلِ. وَرَوَاهُ الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، ⦗٢١٤⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ..
محمد بن عباد مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو ضمرہ انس بن عیاض رحمہ اللہ نے ایسی ہی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7463]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7464
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الزُّهْرِيُّ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ لَنَا ابْنُ نَاجِيَةَ: كَذَا قَالَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ، يَقُولُ: قَالَ الْبُخَارِيُّ: عَبْدُ اللهِ وَالِدُ مُنِيرٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْبَرَاءُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مُنِيرٌ هَذَا لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
حارث بن ابی ذباب، منیر بن عبداللہ سے، وہ اپنے والد سے اور وہ سعد بن ابو ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن ناجیہ رحمہ اللہ نے ہم سے کہا: انہوں نے اسی طرح کہا ہے، اور اسی معنی میں حدیث بیان کی۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: منیر کے والد عبداللہ، جو سعد بن ابی ذباب سے روایت کرتے ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں۔ اور علی بن مدینی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: اس منیر کو ہم اس حدیث کے علاوہ نہیں جانتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7464]
امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا: منیر کے والد عبداللہ، جو سعد بن ابی ذباب سے روایت کرتے ہیں، ان کی حدیث صحیح نہیں۔ اور علی بن مدینی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: اس منیر کو ہم اس حدیث کے علاوہ نہیں جانتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7464]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7465
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ مُعَاذَ بْنِ جَبَلٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَى بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ حِسْبَتَهُ فَقَالَ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كِلَاهُمَا لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ".
طاؤس رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس گائے کا وقص (دو نصابوں کے درمیان کی تعداد) اور میرا خیال ہے شہد لایا گیا تو معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی چیز کا حکم نہیں دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7465]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ الشافعي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7466
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: جَاءَ كِتَابٌ مِنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي وَهُوَ بِمِنًى أَنْ" لَا تَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ وَلَا مِنَ الْعَسَلِ صَدَقَةً" قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَعْدُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ يَحْكِي مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْهُ بِأَخْذِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْعَسَلِ وَأنَّهُ شَيْءٌ رَآهُ فَتَطَوَّعَ لَهُ بِهِ أَهْلُهُ. قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: الْحَدِيثُ فِي أَنَّ فِي الْعَسَلِ الْعُشْرَ ضَعِيفٌ وَفِي أَنْ لَا يُؤْخَذَ مِنْهُ الْعُشْرُ ضَعِيفٌ، إِلَّا عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَاخْتِيَارِي أنَّهُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهُ لِأَنَّ السُّنَنَ وَالْآثَارَ ثَابِتَةٌ فِيمَا يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ فِيهِ ثَابِتَةٌ فَكَأنَّهُ عَفْوٌ.
حضرت مالک رحمہ اللہ، عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف سے ایک تحریر میرے والد کے پاس آئی، اس وقت وہ منیٰ میں تھے کہ گھوڑے اور شہد سے زکاۃ نہ لی جائے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شہد کی زکاۃ وصول کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ایک ایسی چیز تھی جسے انہوں نے خود مناسب سمجھا اور ان کی قوم نے اپنی خوشی سے انہیں دے دی۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ ”شہد میں عشر ہے“ وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ ”اس سے عشر نہ لیا جائے“ وہ بھی ضعیف ہے، سوائے عمر بن عبدالعزیز سے (منقول قول) کے۔ اور میرا اختیار یہ ہے کہ اس سے (عشر) نہ لیا جائے، کیونکہ جن چیزوں سے لیا جاتا ہے ان کے بارے میں سنتیں اور آثار ثابت ہیں اور اس کے بارے میں ثابت نہیں، تو گویا یہ معاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7466]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شہد کی زکاۃ وصول کرنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ ایک ایسی چیز تھی جسے انہوں نے خود مناسب سمجھا اور ان کی قوم نے اپنی خوشی سے انہیں دے دی۔ زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں یہ ہے کہ ”شہد میں عشر ہے“ وہ ضعیف ہے اور جس میں ہے کہ ”اس سے عشر نہ لیا جائے“ وہ بھی ضعیف ہے، سوائے عمر بن عبدالعزیز سے (منقول قول) کے۔ اور میرا اختیار یہ ہے کہ اس سے (عشر) نہ لیا جائے، کیونکہ جن چیزوں سے لیا جاتا ہے ان کے بارے میں سنتیں اور آثار ثابت ہیں اور اس کے بارے میں ثابت نہیں، تو گویا یہ معاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7466]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: ضعيف