🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1569. -- باب: المسلم يزرع أرضا من أرض الخراج فيكون عليه في زرعه العشر أو نصف العشر
-- باب: مسلمان خراجی زمینوں میں سے کسی زمین پر کاشت کرے تو اس کی پیداوار پر اسے عشر (دسواں حصہ) یا نصف عشر (بیسواں حصہ) ادا کرنا ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q7497
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ} [التوبة: 103] وَقَالَ: {وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ} [الأنعام: 141] وَقَالَ: {وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ} [البقرة: 267] وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ"، وَقَالَ:" فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ"..
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ﴾ ”آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کیجیے جو انہیں پاک کر دے۔“ [سورة التوبة: 103]
اور فرمایا: ﴿وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ﴾ ”اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو۔“ [سورة الأنعام: 141]
اور فرمایا: ﴿وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ﴾ ”اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالا ہے۔“ [سورة البقرة: 267]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم (پیداوار) میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔“
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس (زمین) کو آسمان (کی بارش) اور چشمے سیراب کریں اس میں دسواں حصہ (عشر) ہے، اور جسے اونٹوں (یا مصنوعی ذرائع) کے ذریعے سیراب کیا جائے اس میں بیسواں حصہ (نصف عشر) ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: Q7497]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7497
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ مُسْلِمٍ يَكُونُ فِي يَدَهِ أَرْضُ الْخَرَاجِ فَيُسْأَلُ الزَّكَاةَ فَيَقُولُ: إِنَّ عَلَيَّ الْخَرَاجَ. قَالَ:" الْخَرَاجُ عَلَى الْأَرْضِ، وَفِي الْحَبِّ الزَّكَاةُ" قَالَ: وَسَأَلْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.
عمرو بن میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے اس مسلمان کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا جس کے پاس ٹیکس والی زمین ہو اور اس سے زکاۃ پوچھی جاتی تو وہ کہتا کہ میرے ذمے اس کا ٹیکس بھی ہے، تو وہ کہتے کہ ٹیکس زمین پر ہے اور زکاۃ پیداوار پر۔ وہ کہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ پھر پوچھا تو انہوں نے یہی جواب دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7497]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو عبيد»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7498
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ، ثنا يَحْيَى، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ زَكَاةِ الْأَرْضِ الَّتِي عَلَيْهَا الْجِزْيَةُ فَقَالَ:" لَمْ يَزَلِ الْمُسْلِمُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَعْدَهُ يُعَامَلُونَ عَلَى الْأَرْضِ وَيَسْتَكْرُونَهَا وَيُؤَدُّونَ الزَّكَاةَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا فَنَرَى هَذِهِ الْأَرْضَ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ" وَالْكَلَامُ فِي سَوَادِ الْعِرَاقِ مَوْضِعُهُ كِتَابُ الْجِزْيَةِ. ⦗٢٢٢⦘ فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي.
یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے اس زمین کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا جس پر ٹیکس ہو، تو انہوں نے فرمایا: مسلمان ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اور اس کے بعد بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور کرائے پر لیا کرتے تھے مگر زکوٰۃ بھی ادا کیا کرتے تھے، ہم اس زمین کو بھی ویسے ہی تصور کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7498]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ هذا اسناد صحيح الي الزهري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7499
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السَّرَخْسِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْتَمِعُ عَلَى الْمُسْلِمِ خَرَاجٌ وَعُشْرٌ". فَهَذَا حَدِيثٌ بَاطِلٌ وَصْلُهُ وَرَفْعُهُ، وَيَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ مُتَّهَمٌ بَالْوَضْعِ، قَالَ أَبُو سَعْدٍ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ إِنَّمَا يَرْوِيهِ أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مِنْ قَوْلِهِ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ فَأَوْصَلَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيَحْيَى بْنُ عَنْبَسَةَ مَكْشُوفُ الْأَمْرِ فِي ضَعْفِهِ لِرِوَايَاتِهِ عَنِ الثِّقَاتِ بِالْمَوْضُوعَاتِ.
علقمہ رحمہ اللہ عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر ٹیکس اور عشر دونوں جمع نہیں ہوتے۔“
اس حدیث کا موصول اور مرفوع ہونا باطل ہے، اور یحییٰ بن عنبسہ پر حدیث گھڑنے کا الزام ہے۔ ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابو حنیفہ اسے حماد سے، وہ ابراہیم سے انہی (ابراہیم) کے قول کے طور پر روایت کرتے ہیں، یحییٰ بن عنبسہ نے اسے ابو حنیفہ سے روایت کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا، اور یحییٰ بن عنبسہ کا ضعیف ہونا واضح ہے، کیونکہ وہ ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7499]
تخریج الحدیث: «موضوع۔ أخرجه ابن عدي في الكامل»

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں