السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1589. -- باب: سياق أخبار تدل على إباحته للنساء.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو عورتوں کے لیے اس (سونے کے زیور) کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7558
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَرِيرُ وَالذَّهَبُ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ". وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7558]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه الترمذي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7559
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ نُفَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلْيَةٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ أَهْدَاهَا لَهُ، فِيهَا خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُودٍ مُعْرِضًا عَنْهُ أَوْ بِبَعْضِ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ دَعَا أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ بِنْتِ ابْنَتِهِ زَيْنَبَ، فَقَالَ:" تَحَلَّيْ هَذَا يَا بُنَيَّةِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجاشی کی طرف سے زیور کا تحفہ آیا، جس میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس میں حبشی نگینہ تھا، وہ فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لکڑی سے، یا (اس سے) اعراض کرتے ہوئے، یا اپنی کسی انگلی سے پکڑا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، سے فرمایا: ”اے بچی! یہ تو پہن لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7559]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7560
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُزَكِّي، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَّى أُمَّهَا وَخَالَتَهَا، وَكَانَ أَبُوهُمَا أَبُو أُمَامَةَ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ أَوْصَى بِهِمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَّاهُمَا رِعَاثًا مِنْ تِبْرٍ ذَهَبٍ فِيهِ لُؤْلُؤٌ، قَالَتْ زَيْنَبُ: وَقَدْ أَدْرَكْتُ الْحُلِيَّ أَوْ بَعْضَهُ.
زینب بنت نبیط رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ماں اور خالہ کو زیور پہنایا اور ان کے والد ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وصیت کی تھی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سونے کی بالیاں پہنائیں جن میں موتیوں کا جڑاؤ تھا۔ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے بھی وہ زیور پایا یا اس کا کچھ حصہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7560]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأُخْتَايَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَلِّينَا الذَّهَبَ وَاللُّؤْلُؤَ". ⦗٢٣٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدٍ فَكَانَ يُحَلِّينَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: رِعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَقَالَ صَفْوَانُ: يُحَلِّينَا التِّبْرَ وَاللُّؤْلُؤَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: وَاحِدُ الرِّعَاثِ رَعَثَةٌ وَرَعْثَةٌ، وَهُوَ الْقُرْطُ فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِحُصُولِ الْإِجْمَاعِ عَلَى إِبَاحَتِهِ لَهُنَّ عَلَى نَسْخِ الْأَخْبَارِ الدَّالَّةِ عَلَى تَحْرِيمِهِ فِيهِنَّ خَاصَّةً وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میں اور میری دونوں بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سونے اور موتیوں کا زیور پہنایا کرتے تھے۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7561]
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7561]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن