السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1589. -- باب: سياق أخبار تدل على إباحته للنساء.
-- باب: ان احادیث کا سیاق جو عورتوں کے لیے اس (سونے کے زیور) کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7561
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ نُبَيْطٍ، عَنْ أُمِّهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأُخْتَايَ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَلِّينَا الذَّهَبَ وَاللُّؤْلُؤَ". ⦗٢٣٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي عُبَيْدٍ فَكَانَ يُحَلِّينَا، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: رِعَاثًا مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤٍ، وَقَالَ صَفْوَانُ: يُحَلِّينَا التِّبْرَ وَاللُّؤْلُؤَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ قَالَ أَبُو عَمْرٍو: وَاحِدُ الرِّعَاثِ رَعَثَةٌ وَرَعْثَةٌ، وَهُوَ الْقُرْطُ فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى إِبَاحَةِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ، وَاسْتَدْلَلْنَا بِحُصُولِ الْإِجْمَاعِ عَلَى إِبَاحَتِهِ لَهُنَّ عَلَى نَسْخِ الْأَخْبَارِ الدَّالَّةِ عَلَى تَحْرِيمِهِ فِيهِنَّ خَاصَّةً وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میں اور میری دونوں بہنیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سونے اور موتیوں کا زیور پہنایا کرتے تھے۔
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7561]
ابو عبید کی ایک روایت میں ہے کہ وہ ہمیں زیور پہنایا کرتے تھے۔ ابن جعفر کہتے ہیں: سونے اور موتیوں کی بالیاں۔ صفوان کہتے ہیں: ہمیں زیور پہناتے «تِبْرٍ» اور «لُؤْلُؤٍ» سے۔ ابو عمرو کہتے ہیں: «رِعَاثٍ» کی واحد «رَعْثَةٌ» ہے۔ «رَعْثَةٌ» «قُرْطٌ» ہے (بالی) سو یہ اخبار اور جو ان کے ہم معنیٰ وارد ہوئی ہیں عورتوں کے لیے سونے کے زیور کو جائز قرار دیتی ہیں، اور عورتوں کے لیے اس کی اباحت پر اجماع ہو جانے سے ہم نے یہ استدلال کیا ہے کہ خاص طور پر عورتوں کے حق میں اس کی حرمت پر دلالت کرنے والی احادیث منسوخ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7561]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7561 in Urdu