السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1627. -- باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث.
-- باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
حدیث نمبر: 7718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَحُمَيْدٌ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ ⦗٢٨٦⦘ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ" وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ" أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً". وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَسَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرِهِمْ عَنْ مُجَاهِدٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور وہ حدیبیہ میں تھے اور یہ مکہ میں دخول سے پہلے کی بات ہے اور وہ محرم تھے اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے تیرے یہ جانور پریشان کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوا دے اور کھجور کا ایک «فَرَق» (ٹوکرا) چھ مسکینوں کو کھلا، اور «فَرَق» تین «صَاع» کا ہوتا ہے، یا پھر تین دن کے روزے رکھ یا ایک قربانی دے۔“ ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ ایک بکری ذبح کر۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابٍ مُعَارَضٍ بِأَصْلِهِ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بكرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ:" الْفَرَقُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا"، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ". قَالَ: فَمَنْ قَالَ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ؟ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ.
ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو فرماتے سنا: ”فرق سولہ رطل کا ہوتا ہے“، اور میں نے انہیں یہ بھی فرماتے سنا: ”ابن ابی ذئب کا صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہے۔“ ان سے پوچھا گیا: جس نے آٹھ رطل کہا ہے؟ فرمایا: وہ محفوظ نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7719]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْحِمْيَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَ أَبُو يُوسُفَ مَالِكًا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنْينَ عَنِ الصَّاعِ، كَمْ هُوَ رِطْلًا؟ قَالَ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الصَّاعَ لَا يُرْطَلُ، فَفَحَمَهُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ:" فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَمَعْنَا أَبْنَاءَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَوْتُ بِصَاعَاتِهِمْ، فَكُلٌّ حَدَّثَنِي عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هَذَا صَاعُهُ فَقَدَّرْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مُسْتَوِيَةً، فَتَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَرَجَعْتُ إِلَى هَذَا".
ابو احمد محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے امیر المؤمنین کے پاس پوچھا کہ صاع کتنے رطل کا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ صاع کے رطل نہیں ہوتے اور اسے یہ جواب دے کر لاجواب کر دیا۔ ابو احمد فرماتے ہیں: میں نے حسین بن ولید کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں مدینہ آیا اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے تمام صاع منگوائے تو وہ سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل فرمانے لگے کہ یہی وہ صاع ہے، تو میں نے ان سب کے صاع کو برابر پایا۔ پھر میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اس کی طرف رجوع کر لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7720]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ مِنَ الْحَجِّ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَفْتَحَ عَلَيْكُمْ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ هَمَّنِي، تَفَحَّصْتُ عَنْهُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالُوا: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُمْ: مَا حُجَّتُكُمْ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَأْتِيكَ بِالْحُجَّةِ غَدًا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَانِي نَحْوٌ مِنْ خَمْسِينَ شَيْخًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الصَّاعُ تَحْتَ رِدَائِهِ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَوْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هِيَ سَوَاءٌ، قَالَ: فَعَايَرْتُهُ فَإِذَا هُوَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِنُقْصَانٍ مَعَهُ يَسِيرٍ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا قَوِيًّا فَقَدْ تَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الصَّاعِ، وَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" قَالَ الْحُسَيْنُ: فَحَجَجْتُ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالَ: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: كَمْ رِطْلًا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ الْمِكْيَالَ لَا يُرْطَلُ، هُوَ هَذَا. ⦗٢٨٧⦘ قَالَ الْحُسَيْنُ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ هَذَا صَاعُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حسین بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف رحمہ اللہ حج سے واپسی پر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پر علم کا ایک ایسا دروازہ کھولوں جس نے مجھے فکر مند کیا، میں نے اس کی تحقیق کی اور مدینہ آیا، پھر میں نے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ ہمارا صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ میں نے ان سے کہا: تمہاری کیا دلیل ہے؟ انہوں نے کہا: ہم کل آپ کے پاس اس کی دلیل لاتے ہیں۔ اگلی صبح میرے پاس پچاس شیوخ کے لگ بھگ آئے جو مہاجرین و انصار کے بیٹے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کی چادر کے نیچے صاع تھا اور ان میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں یا والدین سے کہہ رہا تھا کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ جب میں نے دیکھا تو سب کو برابر پایا اور وہ پانچ رطل اور ایک تہائی رطل سے کچھ کم تھا تو میں نے اس کو قوی جانا اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اہل مدینہ کے قول کو قبول کر لیا۔
حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کتنے رطل کا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا صاع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7721]
حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کتنے رطل کا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا صاع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «حسن۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7722
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْخُسْرَوَجُرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ الْجَلَّابُ، يَقُولُ: سَأَلْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي أُوَيْسٍ بِالْمَدِينَةِ، عَنْ صَاعِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَاعًا عَتِيقًا بَالِيًا، فَقَالَ: هَذَا صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِهِ فَعَيَّرْتُهُ فَكَانَ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا".
محمد بن سعد جلاب فرماتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابو اویس سے مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک پرانا صاع نکالا اور فرمایا: یہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل صاع، میں نے اس کا وزن کیا تو وہ پانچ رطل اور ایک ثلث تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7722]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: قَرَأْتُ بِخَطِّ أَبِي عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، يَقُولُ:" اسْتَعَرْتُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ صَاعَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ مَكْتُوبًا صَاعُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مُعَيَّرٌ عَلَى صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَحْسَبُنِي إِلَّا عَيَّرْتُهُ بِالْعَدَسِ، فَوَجَدْتُهُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا".
محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے اسماعیل بن ابی اویس سے امام مالک بن انس رحمہ اللہ کا صاع عاریتاً لیا تو اس پر لکھا ہوا پایا: مالک بن انس کا صاع، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کے مطابق ناپا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے اسے مسور سے ناپا تو اسے پانچ رطل اور ایک تہائی رطل پایا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7723]
حدیث نمبر: 7724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَاعَنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ، وَمُدَّنَا أَصْغَرُ الْأَمْدَادِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَقَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، اللهُمَّ إَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ". وَالَّذِي رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءُ رَطْلَيْنِ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَإِنَّ صَالِحًا يَتَفَرَّدُ بِهِ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِرَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ إِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى ⦗٢٨٨⦘ خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، ثُمَّ قَدْ أَخْبَرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ بِالصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى مُخَالَفَةِ صَاعِ الزَّكَاةِ وَالْقُوتِ صَاعَ الْغُسْلِ. ثُمَّ قَدْ رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ قَدْرَ الْفَرَقِ، وَقَدْ دَلَّلْنَا عَلَى أَنَّ الْفَرَقَ ثَلَاثَةُ آصُعٍ، فَإِذَا كَانَ الصَّاعُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا، كَانَ قَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعٌ وَنِصْفٌ، وَقَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كَانَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الِاسْتِعْمَالِ فَلَا مَعْنَى لِتَرْكِ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ فِي قَدْرِ الصَّاعِ الْمُعَدِّ لِزَكَاةِ الْفِطْرِ بِمِثْلِ هَذَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا صاع تمام صاعوں سے چھوٹا ہے اور ہمارا مد تمام مدوں سے چھوٹا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! تو ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت ڈال دے، ہمارے تھوڑے میں اور ہمارے زیادہ میں ایک برکت کے ساتھ دو برکات نازل فرما۔ اے اللہ! بیشک ابراہیم تیرے بندے اور تیرے خلیل نے اہل مکہ کے لیے دعا کی اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول تجھ سے اہل مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جو ابراہیم نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“
رہی وہ روایت جو صالح بن موسیٰ طلحی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے کہ غسل جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ایک صاع (پانی) تھا اور وضو کے لیے دو رطل تھے اور صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو اسے بیان کرنے میں صالح منفرد ہیں اور وہ ضعیف الحدیث ہیں، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر اہل علم محدثین نے کہی ہے۔
اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو دو رطل سے اور غسل ایک صاع سے کرتے تھے، جو آٹھ رطل کا ہوتا ہے، ان دونوں کی سند ضعیف ہے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صحیح یہ ہے کہ آپ ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے اور غسل ایک صاع سے پانچ مد تک کرتے۔
پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ لوگ اسی صاع سے صدقہ فطر دیتے تھے جس سے اپنی خوراک ناپتے تھے۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زکوٰۃ اور خوراک والا صاع غسل والے صاع سے مختلف ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرق کے برابر برتن سے غسل کرتے تھے، اور یہ بات ہم واضح کر چکے ہیں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔ جب صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہو تو ان میں سے ہر ایک کے غسل کی مقدار آٹھ رطل ہوئی، جو ڈیڑھ صاع ہے، اور غسل کی مقدار استعمال کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی تھی، لہٰذا اس جیسی بات کی وجہ سے ان احادیث صحیحہ کو ترک کرنے کا کوئی مطلب نہیں جن میں صدقہ فطر کے لیے مقرر صاع کی مقدار بیان کی گئی ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7724]
رہی وہ روایت جو صالح بن موسیٰ طلحی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے کہ غسل جنابت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ایک صاع (پانی) تھا اور وضو کے لیے دو رطل تھے اور صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو اسے بیان کرنے میں صالح منفرد ہیں اور وہ ضعیف الحدیث ہیں، یہ بات یحییٰ بن معین اور دیگر اہل علم محدثین نے کہی ہے۔
اسی طرح سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو دو رطل سے اور غسل ایک صاع سے کرتے تھے، جو آٹھ رطل کا ہوتا ہے، ان دونوں کی سند ضعیف ہے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے صحیح یہ ہے کہ آپ ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے اور غسل ایک صاع سے پانچ مد تک کرتے۔
پھر سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ لوگ اسی صاع سے صدقہ فطر دیتے تھے جس سے اپنی خوراک ناپتے تھے۔
یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ زکوٰۃ اور خوراک والا صاع غسل والے صاع سے مختلف ہے۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرق کے برابر برتن سے غسل کرتے تھے، اور یہ بات ہم واضح کر چکے ہیں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔ جب صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہو تو ان میں سے ہر ایک کے غسل کی مقدار آٹھ رطل ہوئی، جو ڈیڑھ صاع ہے، اور غسل کی مقدار استعمال کے لحاظ سے مختلف ہو جاتی تھی، لہٰذا اس جیسی بات کی وجہ سے ان احادیث صحیحہ کو ترک کرنے کا کوئی مطلب نہیں جن میں صدقہ فطر کے لیے مقرر صاع کی مقدار بیان کی گئی ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7724]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن