🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1627. -- باب: ما دل على أن صاع النبي صلى الله عليه وسلم كان عياره خمسة أرطال وثلث.
-- باب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ مِنَ الْحَجِّ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ:" إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَفْتَحَ عَلَيْكُمْ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ هَمَّنِي، تَفَحَّصْتُ عَنْهُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالُوا: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُمْ: مَا حُجَّتُكُمْ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَأْتِيكَ بِالْحُجَّةِ غَدًا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَانِي نَحْوٌ مِنْ خَمْسِينَ شَيْخًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الصَّاعُ تَحْتَ رِدَائِهِ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَوْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هِيَ سَوَاءٌ، قَالَ: فَعَايَرْتُهُ فَإِذَا هُوَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِنُقْصَانٍ مَعَهُ يَسِيرٍ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا قَوِيًّا فَقَدْ تَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الصَّاعِ، وَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" قَالَ الْحُسَيْنُ: فَحَجَجْتُ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالَ: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: كَمْ رِطْلًا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ الْمِكْيَالَ لَا يُرْطَلُ، هُوَ هَذَا. ⦗٢٨٧⦘ قَالَ الْحُسَيْنُ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ هَذَا صَاعُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حسین بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف رحمہ اللہ حج سے واپسی پر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پر علم کا ایک ایسا دروازہ کھولوں جس نے مجھے فکر مند کیا، میں نے اس کی تحقیق کی اور مدینہ آیا، پھر میں نے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ ہمارا صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ میں نے ان سے کہا: تمہاری کیا دلیل ہے؟ انہوں نے کہا: ہم کل آپ کے پاس اس کی دلیل لاتے ہیں۔ اگلی صبح میرے پاس پچاس شیوخ کے لگ بھگ آئے جو مہاجرین و انصار کے بیٹے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کی چادر کے نیچے صاع تھا اور ان میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں یا والدین سے کہہ رہا تھا کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع ہے۔ جب میں نے دیکھا تو سب کو برابر پایا اور وہ پانچ رطل اور ایک تہائی رطل سے کچھ کم تھا تو میں نے اس کو قوی جانا اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اہل مدینہ کے قول کو قبول کر لیا۔
حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ صاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کتنے رطل کا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا صاع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الزكاة/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «حسن۔ رجاله ثقات»

الحكم على الحديث: حسن

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7721 in Urdu