السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1636. -- باب: الاختيار في صدقة التطوع
-- باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7762
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لَوْ أَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُمَرٍو.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بنت حارث فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک باندی آزاد کی، اس کا تذکرہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اپنے ماموں کو دے دیتی تو تجھے زیادہ اجر و ثواب ملتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7762]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7763
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمُّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ" قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أُمُّكَ؟ قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ".
بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون نیکی کا زیادہ مستحق ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں!“ میں نے کہا: پھر کون؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تیرا والد، پھر اس کے بعد قریبی رشتہ دار، پھر اس کے بعد رشتہ دار۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7763]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 7764
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ بَكْرٍ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلَهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ فَيَمْنَعَهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتَلَمَّظُ فَضْلَهُ الَّذِي مَنْعَ".
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”کسی آدمی کے پاس اس کا غلام آئے، وہ اس سے کوئی چیز مانگے جو اس کے پاس ہے، پھر وہ اس سے روک لے تو وہ قیامت کے دن اس کی طرف بڑے اژدھا کی صورت میں بلایا جائے گا اور وہ اس سے چمٹ جائے گا جس سے اس نے منع کیا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7764]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه احمد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7765
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٣٠١⦘ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي ذَلِكَ، حَقًّا وَاجِبًا وَرَحِمًا مَوْصُولَةً".
کلیب بن منفعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! نیکی کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری ماں، والد، بہن، بھائی اور تیرا وہ غلام جس کا حق تیرے ساتھ ملا ہوا ہے اور جس کے ساتھ صلہ رحمی واجب ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7765]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7766
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ ثُمَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ".
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے حق میں وصیت کرتے ہیں، پھر تمہارے والدوں کے حق میں، پھر اس کے بعد جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہیں، ان کے حق میں وصیت کرتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7766]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7767
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ خِدَاشٍ أَبِي سَلَامَةَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوْصِي امْرَأً بِأُمِّهِ ثَلَاثًا، أُوصِي امْرَأً بِأَبِيهِ مَرَّتَيْنِ، أُوصِي امْرَأً بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَيْهِ أَذَاةٌ تُؤْذِيهِ" قَالَ الشَّيْخُ: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ مَنْصُورٍ عَلَى مَنْصُورٍ فِي اسْمِ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ فَقِيلَ عَنْهُ هَكَذَا، وَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيٍّ، وَقِيلَ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
خداش ابو سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں آدمی کو ماں کے بارے میں تین مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور والد کے بارے میں دو مرتبہ وصیت کرتا ہوں اور اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں اگرچہ وہ اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے جو اسے تکلیف دیتا ہے۔“
شیخ نے کہا کہ اصحاب منصور نے منصور سے راویوں کے ناموں میں اختلاف کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7767]
شیخ نے کہا کہ اصحاب منصور نے منصور سے راویوں کے ناموں میں اختلاف کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7767]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه»
الحكم على الحديث: ضعيف