السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1636. -- باب: الاختيار في صدقة التطوع
-- باب: نفلی صدقے کے حوالے سے اختیار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يعُولُ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى، وَمَنْ يسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللهُ"..
سیدنا حکیم بن حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور چاہیے کہ تم میں سے ایک اس کی ابتدا گھر والوں سے کرے اور بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد بھی انسان غنی ہو اور جو کوئی سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے اور جو کوئی لوگوں سے بے پروا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے بے پروا کر دیتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7752]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7753
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ يَاسِينَ، حدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الزَّرْدِ الْأَيْلِيُّ، ثنا حَبَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَنْ يسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللهُ وَلَمْ يَذْكُرْ كَلِمَةَ الِاسْتِعْفَافِ..
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی حدیث نقل فرماتے ہیں سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ» ”جو کوئی بے پروا ہونا چاہتا ہے اللہ اسے مستغنی کر دیتا ہے۔“ اور اس میں (سوال سے بچنے والا) کلمہ استعفاف ذکر نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7753]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7754
قَالَ: وَحَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ هَذَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ وُهَيْبٍ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا وَذَكَرَ كَلِمَةَ الِاسْتِعْفَافِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ حَكِيمٍ، وَمِنْ حَدِيثِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَزِيدُ وَيَنْقُصُ.
وہیب نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی حکیم بن حزام کی اس حدیث کی مثل روایت کی ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل وُہیب سے دونوں سندوں کے ساتھ ایک ہی حدیث نقل فرماتے ہیں اور اس میں وہ کلمہ استعفاف بھی بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7754]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7755
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: ⦗٢٩٨⦘ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةٍ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ؟" فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي" فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو عذرہ میں سے ایک شخص نے مدبر غلام آزاد کیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ بھی تیرا مال ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے اس غلام کو کون خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ عدوی رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لا کر اسے دے دیے۔ پھر فرمایا: ”اپنی ذات پر خرچ کرنے سے (صدقہ) شروع کرو اور جو اس سے بچ رہے وہ تیرے اہل کے لیے ہے، اگر تیرے اہل سے بچ جائے تو تیرے قرابت داروں کے لیے ہے۔ اگر قرابت داروں سے بچ رہے تو پھر ایسے ایسے ہے“ یعنی پھر اپنے سامنے والوں، دائیں اور بائیں والوں کو دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7756
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً مسلمان جب اپنے اہل و عیال پر کچھ خرچ کرتا ہے اور اس کے اجر کی امید اللہ سے رکھتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7756]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7757
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ" قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ، فَأِيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يَقُوتُهُمُ اللهُ وَيَنْفَعُهُمْ بِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دیناروں میں سے افضل دینار وہ ہے جسے وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے، پھر وہ جسے اللہ کی راہ میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے، پھر وہ دینار جسے اللہ کی راہ میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ ابو قلابہ رحمہ اللہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیال سے ابتدا کی۔ وہ کون سا شخص ہے جو اجر میں اس سے زیادہ ہو جو اپنی چھوٹی اولاد پر خرچ کرتا ہے جو ان کے رزق کا باعث ہوتا ہے اور انہیں فائدہ بھی پہنچاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7757]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7758
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسٌ الْإِسْفَاطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ثنا ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ مَرَّ عَلَيْهِ وَهُوَ يُسَاوِمُ بِمَرْطٍ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: أُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَأَتَصَدَّقَ بِهِ، فَاشْتَرَاهُ فَدَفَعَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ" فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ؟ فَأَتَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَامَ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ فَقَالَتْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ عَمْرٌو، قَالَتْ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَعْطَيْتُمُوهُنَّ فَهُوَ صَدَقَةٌ" قَالَتْ: نَعَمْ. ⦗٢٩٩⦘ لَفْظُ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، وَحَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ أَتَمُّ، ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ حمَّادُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَيُقَالُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے تو وہ ایک اونی چادر کا سودا کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ اسے خرید کر صدقہ کروں، پھر انہوں نے وہ خرید لی اور اپنے گھر والوں کو دے دی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو گے وہ بھی صدقہ ہے“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تیرا اس بات پر گواہ کون ہے؟“ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دروازے کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”عمرو ہے۔“ کہنے لگیں: ”تجھے کون سی چیز لائی ہے؟“ تو وہ کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم ان کو دو وہ صدقہ ہے“، تو وہ کہنے لگیں: ”ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ہی فرمایا ہے۔“
یہ انس بن عیاض کی حدیث کے الفاظ ہیں، اور ابو داؤد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7758]
یہ انس بن عیاض کی حدیث کے الفاظ ہیں، اور ابو داؤد کی حدیث زیادہ مکمل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7758]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7759
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ، فَقَالَ:" تَصَدَّقْنَ يَا مَعَاشِرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ" قَالَتْ: وَكُنْتُ أَعُولُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَيَتَامَى فِي حَجْرِهِ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ: ائْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ، أَيَجْزِئُ ذَلِكَ عَنِّي أَوْ أُوَجِّهُهُ عَنْكُمْ، تَعْنِي الصَّدَقَةَ، فَقَالَ: لَا، بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ فَسَلِيهِ، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَلَسْتُ فَوَجَدْتُ عِنْدَ الْبَابِ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ حَاجَتُهَا حَاجَتِي، وَكَانَتْ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ، قَالَتْ: فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا: سَلْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: امْرَأَتَانِ تَعُولَانِ أَزْوَاجَهُمَا وَيَتَامَى فِي حُجُورِهِمَا، هَلْ يَجْزِي ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنَ الصَّدَقَةِ؟ فَقَالَ لَهُ" مَنْ هُمَا" قَالَ: زَيْنَبُ وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ:" أِيُّ الزَّيَانِبِ؟ قَالَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَامْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" نَعَمْ، لَهُمَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنِ الْأَعْمَشِ بِطُولِهِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرنا پڑے۔“ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے زیادہ مال دار تھی اور کچھ یتیم ان کی گود میں تھے اور عبداللہ تنگ دست تھے تو میں نے عبداللہ سے کہا: ”تم پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ کیا میرا صدقہ آپ کے لیے درست ہے؟ یا انہوں نے کہا: میں تم پر صدقہ کروں؟“ تو عبداللہ نے کہا: ”نہیں بلکہ خود جا کر پوچھو۔“ وہ کہتی ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی اور آ کر بیٹھ گئی، میں نے دروازے کے پاس ایک انصاری عورت کو دیکھا۔ اسے بھی وہی ضرورت تھی جو میری ضرورت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر (اللہ کی طرف سے) ہیبت ڈالی گئی تھی تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہماری طرف نکلے، ہم نے کہا: ”تم جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، مگر ہمارے بارے میں نہ بتانا۔“ انہوں نے جا کر پوچھا: ”دو عورتیں ہیں جو اپنے خاوندوں سے زیادہ مال دار ہیں اور ان کی گود میں یتیم پرورش پا رہے ہیں، کیا ان کا صدقہ ان پر کفایت کر جائے گا؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہیں کون؟“ تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”زینب ہے اور ایک انصاری عورت۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون سی زینبیں؟“ انہوں نے کہا: ”عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ایک انصاری عورت۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! ان کے لیے دوگنا اجر ہے، ایک قرابت داری کا اور ایک صدقہ کرنے کا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7759]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَيْطَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَّاعَةً، وَلَيْسَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَالٌ، وَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ ثَمَنِ صَنْعَتِهَا، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ وَهُوَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّنِي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا، وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي شَيْءٌ، فَشَغَلُونِي فَلَا ⦗٣٠٠⦘ أَتَصَدَّقُ، فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ أَجْرٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقَتِ عَلَيْهِمْ فَأَنْفَقِي عَلَيْهِمْ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی اور ان کے بچوں کی ماں سیدہ ریطہ بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا ہنرمند عورت تھیں اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں تھا، وہ اپنی دستکاری کی قیمت سے ان پر اور ان کے بچوں پر خرچ کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نے اور تمہارے بچوں نے مجھے صدقہ کرنے سے روک رکھا ہے، میں تمہارے ساتھ صدقہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا: اگر اس میں تمہارے لیے اجر نہ ہو تو میں پسند نہیں کرتا کہ تم ایسا کرو۔ چنانچہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کاریگر عورت ہوں، میں اس میں سے فروخت کرتی ہوں، لیکن میرے لیے، میرے بچے اور خاوند کے لیے کچھ نہیں۔ انہوں نے مجھے مصروف کر رکھا ہے، اس لیے میں صدقہ نہیں کر سکتی۔ کیا اس میں میرے لیے کوئی اجر ہے؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے لیے اس میں اجر ہے جو بھی تو ان پر خرچ کرے گی، سو تو ان پر خرچ کرتی رہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن حبان»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي أَبِي سَلَمَةَ فِي حَجْرِي، وَلَيْسَ لَهُمْ شَيْءٌ إِلَّا مَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ كَذَا وَكَذَا، فَلِي أَجْرٌ إِنْ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ لَكِ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے میری پرورش میں ہیں اور ان کے لیے کچھ بھی نہیں مگر جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں اور میں انہیں اس اس وجہ سے چھوڑ بھی نہیں سکتی۔ اگر میں ان پر خرچ کروں تو کیا مجھے اس کا کوئی اجر ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تو ان پر خرچ کرے گی یقیناً تجھے اجر ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح