السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1657. -- باب: من حمل هذه الأخبار على أنها تعطيه من الطعام الذي أعطاها زوجها وجعله بحكمها دون سائر أمواله استدلالا بأصل تحريم مال الغير إلا بإذنه
-- باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے ان احادیث کو اس بات پر محمول کیا کہ عورت اس کھانے میں سے صدقہ کرے جو اس کے شوہر نے اسے دیا ہو اور اس کے اختیار میں کر دیا ہو، نہ کہ اس کے دیگر اموال میں سے، اس بنیادی اصول سے استدلال کرتے ہوئے کہ دوسرے کا مال اس کی اجازت کے بغیر حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7853
وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا، قَالَ:" لَا إِلَّا مِنْ قُوتِهَا، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ" هَذَا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ أَحَدُ رُوَاةِ تِلْكَ الْأَخْبَارِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس عورت کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنے خاوند کے گھر سے صدقہ کرتی ہے کہ وہ صرف اپنے کھانے میں سے کر سکتی ہے اور اجر دونوں کو ملے گا۔ ویسے اس کے لیے روا نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے بغیر اجازت کے صدقہ کرے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7853]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْصِيُّ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدِ بِنْتِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ عَفَارٍ، عَنْ ⦗٣٢٥⦘ ثُمَامَةَ بِنْتِ شَوَّالٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، مَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا؟ فَرَفَعَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا، ثُمَّ قَالَتْ:" لَا، وَلَا مَا يَزِنُ هَذَا إِلَّا بِإِذْنِهِ".
ثمامہ بنت شوال رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حفصہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ عورت کے لیے اس کے خاوند کے گھر میں سے کیا جائز ہے؟ ان میں سے ہر ایک نے لکڑی اٹھائی اور کہا کہ نہیں، اس کے وزن کے برابر بھی نہیں مگر اس کی اجازت سے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7854]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 7855
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ لَاحِقٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي تَمِيمَةُ بِنْتُ سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَتَتْ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةَ، قَالَتْ: فَسَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ مِنَّا فَقَالَتْ: الْمَرْأَةُ تُصِيبُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا شَيْئًا مِنْ غَيْرِ إِذْنِهِ فَغَضِبَتْ وَقَطَبَتْ وَسَاءَهَا مَا قَالَتْ، قَالَتْ:" لَا تَسْرِقِي مِنْهُ ذَهَبًا وَلَا فِضَّةً وَلَا تَأْخُذِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
تمیمہ بنت سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ کوفے کی عورتوں کے ساتھ آئیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اور ایک عورت نے ان میں سے سیدہ سے سوال کیا کہ اگر عورت اپنے خاوند کے گھر سے کوئی چیز لیتی ہے بغیر اجازت سے تو وہ غصے میں آ گئیں اور اسے برا بھلا کہا اس پر جو اس نے کہا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نہ چوری کر اس کے گھر میں سے سونے چاندی اور نہ ہی کسی اور چیز کی۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7855]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7856
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُرَحْبِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ:" أَلَا لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُعْطِيَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ" فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللهِ، وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ:" ذَاكَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا".
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوا، میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے... پھر حدیث بیان کی، نیز فرمایا: ”خبردار! کسی عورت کو جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے مال میں سے کچھ بغیر اجازت کے دے۔“ تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کھانا بھی نہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ہمارے عمدہ اموال میں سے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7856]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداؤد»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 7857
وَرَوَى لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ، قَالَ:" لَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ فَذَكَرَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں خاوند کے بیوی پر جو حقوق ہیں اُن کے بارے میں کہ ”وہ اس کے گھر میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہ دے۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو اس کے لیے اجر ہوگا اور بیوی پر گناہ ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7857]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطيالسي»
الحكم على الحديث: ضعيف