السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1658. -- باب: المملوك يتصدق بالشيء اليسير من مال مولاه
-- باب: غلام کا اپنے آقا کے مال میں سے تھوڑی سی چیز کا صدقہ کرنا۔
حدیث نمبر: 7858
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أَبِي اللَّحْمَ، قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ، قَالَ:" نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ.
ابو لحم کے غلام عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں غلام تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالک کے مال میں سے صدقہ کر لوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اجر تم دونوں کو ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7859
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيَّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أَبِي اللَّحْمَ، قَالَ: أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا، ⦗٣٢٦⦘ فَجَاءَنِي مِسْكِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِكَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَدَعَاهُ، فَقَالَ" لِمَ ضَرَبْتَهُ؟" فَقَالَ: يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ، فَقَالَ" الْأَجْرُ بَيْنَكُمَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
یزید بن ابی عبید کہتے ہیں: میں نے عمیر رضی اللہ عنہ سے سنا جو ابو لحم کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا: میرے مالک نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت تیار کروں تو میرے پاس ایک مسکین آیا۔ میں نے اس میں سے اسے کھلایا۔ اس بات کا میرے مالک کو علم ہوا تو اس نے مجھے مارا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”تو نے اسے کیوں مارا ہے؟“ تو اس نے کہا کہ یہ میرا کھانا میری اجازت کے بغیر دے دیتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7859]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7860
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَرَضَ عَلَيَّ سَيِّدِي كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ:" اتَّقِ اللهَ وَأَدِّ حَقَّ اللهَ عَلَيْكَ وَحَقَّ مَوَالِيكَ، فَإِنَّكَ لَا تَمْلِكُ مِنْ مَالِكَ وَلَا مِنْ دَمِكَ إِلَّا أَنْ تَضَعَ يَدَكَ، أَوْ تُطْعِمَ مِسْكِينًا لُقْمَةً" وَمِمَّنْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ أَبَاحَ لَهُ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِالشَّيْءِ الْيَسِيرِ مِنْ مَالِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَالشَّعْبِيُّ، وَالنَّخَعِيُّ، وَالزُّهْرِيُّ، وَمَكْحُولٌ إِلَّا أَنَّ مَكْحُولًا عَلَّلَ بِأَنَّهُ يَتَحَلَّلُهُ.
ابن ابی ذئب رحمہ اللہ، درہم سے بیان کرتے ہیں کہ میرے مالک نے مجھ پر ایک درہم روزینہ مقرر کیا، تو میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اللہ سے ڈر اور جو اللہ کا حق اور تیرے مالک کا حق تجھ پر ہے، اس کو ادا کر کیونکہ تو اپنے مال کا مالک نہیں اور نہ ہی اپنے خون کا، مگر یہ کہ تو اپنا ہاتھ رکھے یا تو مسکین کو لقمہ کھلائے۔
(ان میں سے جنہوں نے اس کے مال میں سے کچھ صدقہ کرنا جائز جانا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور سعید بن جبیر، حسن بصری رحمہم اللہ وغیرہ ہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7860]
(ان میں سے جنہوں نے اس کے مال میں سے کچھ صدقہ کرنا جائز جانا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں اور سعید بن جبیر، حسن بصری رحمہم اللہ وغیرہ ہیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7860]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابن الحصر»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7861
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، قَالَ: كَتَبَ مَعِي أَهْلُ الْكُوفَةِ بِمَسَائِلَ أَسْأَلُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَأَتَاهُ عَبْدٌ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ إِنِّي أَرْعَى غَنَمًا لِأَهْلِي فَيَمُرُّ بِيَ الظَّمْآنُ أَسْقِيهِ، قَالَ:" لَا، ثُمَّ لَا إِلَّا بِأَمْرِ أَهْلِكَ" قَالَ: فَإِنِّي أَتَخَوَّفُ عَلَيْهِ الْمَوْتَ، قَالَ:" فَاسْقِهِ ثُمَّ أَخْبِرْ أَهْلَكَ بِذَلِكَ".
عبداللہ بن ابی ہذیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ نے کچھ مسائل لکھ کر دیے۔ میں نے اس کے متعلق سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، میں ان کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک غلام آیا اور اس نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! میں اپنے اہل کی بکریاں چرانے والا چرواہا ہوں، میرے پاس سے کوئی پیاسا گزرے کیا میں اس کو پلاؤں؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر اس کی اجازت سے۔ اس نے کہا: میں اس کی موت سے ڈرتا ہوں، تو انہوں نے کہا: پھر اسے پلا دے، لیکن اس بات سے اپنے اہل کو آگاہ کر دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7861]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7862
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ وَأَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْدَانَ الْفَارِسِيُّ، قَالُوا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: سُئِلَ عَنِ الْمَمْلُوكِ يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ، فَقَالَ:" {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] لَا يَتَصَدَّقُ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي إِبِلٍ رَاعِيَةٍ فَيَأْتِيَهُ رَجُلٌ قَدِ انْقَطَعَ حَلْقُهُ مِنَ الْعَطَشِ يَخْشَى إِنْ لَمْ يَسْقِهِ أَنْ يَمُوتَ فَإِنَّهُ يَسْقِيهِ".
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے غلام کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ کوئی چیز صدقہ کرسکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] کہ وہ کسی چیز کا صدقہ نہیں کرسکتا، مگر یہ کہ وہ اونٹوں کا چرواہا ہو اور اس کے پاس آدمی آئے جس کا حلق پیاس کی وجہ سے خشک ہوچکا ہے اور وہ ڈرتا ہے کہ اگر پانی نہ پلایا گیا تو وہ فوت ہوجائے گا، تو پھر وہ اسے پلادے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7862]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 7863
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أنبأ شُعَيْبٌ قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ:" لَا يَصْلُحُ لِلْعَبْدِ أَنْ يُنْفِقَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا، وَلَا يُعْطِيهِ أَحَدًا إِلَّا بِإِذْنِ سَيِّدِهِ إِلَّا أَنْ يَأْكُلَ فِيهِ بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يَكْتَسِيَ" ⦗٣٢٧⦘ وَالْحَدِيثُ الْمُسْنَدُ يَحْتَمِلُ عَلَى الْبُعْدِ أَنْ يَكُونَ قَصَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْغِيبَ الْمَالِكِ فِي أَنْ يَأْذَنَ لِمَمْلُوكِهِ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْهُ، وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا، وَمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ ظَاهِرُهُ مِنَ الْإِبَاحَةِ أَوْلَى بِمَنْ رَغِبَ فِي مُتَابَعَةِ السُّنَّةِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ”غلام کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے مال میں سے کچھ خرچ کرے اور نہ یہ کہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو دے، مگر معروف طریقے سے کھائے یا پہنے۔“
(مسند حدیث میں بعید طور پر یہ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد مالک کو ترغیب دلانا ہو کہ وہ غلام کو اپنی طرف سے صدقے کی اجازت دے اور اجر دونوں کے درمیان ہو، لیکن اس کا ظاہر جس اباحت (جواز) پر دلالت کرتا ہے وہی سنت کی پیروی کے خواہش مند کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7863]
(مسند حدیث میں بعید طور پر یہ احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد مالک کو ترغیب دلانا ہو کہ وہ غلام کو اپنی طرف سے صدقے کی اجازت دے اور اجر دونوں کے درمیان ہو، لیکن اس کا ظاہر جس اباحت (جواز) پر دلالت کرتا ہے وہی سنت کی پیروی کے خواہش مند کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7863]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ رجاله ثقات»
الحكم على الحديث: صحيح