السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1809. -- باب: متى يدخل في اعتكافه إذا أوجب على نفسه اعتكاف شهر أو أيام
-- باب: جب کوئی شخص اپنے اوپر ایک مہینے یا چند دنوں کے اعتکاف کو واجب کر لے تو وہ اپنے اعتکاف میں کب داخل ہو؟
حدیث نمبر: 8589
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا بَكْرٌ وَهُوَ ابْنُ مُضَرَ عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الَّتِي وَسَطَ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ مِنْ حِينِ يَمْضِي عِشْرِينَ لَيْلَةً وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ رَجَعَ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كَانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ ثُمَّ إِنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاوَرَ فِيهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فِيهَا فَأَمَرَهُمْ بِمَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشْرَ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَمَنِ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَبِتْ فِي مُعْتَكَفِهِ" وَقَالَ:" رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ ⦗٥٢٥⦘ وَطِينٍ". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: مُطِرْنَا لَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فَوُكِفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَقَدِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُبْتَلٌّ طِينًا وَمَاءً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہینے کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، جب بیس راتیں گزر جاتیں اور اکیسویں رات آنے والی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر لوٹ آتے اور جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے وہ بھی لوٹ آتے۔ پھر ایک مہینے میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس رات بھی ٹھہرے رہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ جایا کرتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو اللہ نے چاہا انہیں حکم دیا، پھر فرمایا: ”میں اس عشرے میں اعتکاف کیا کرتا تھا، پھر مجھ پر ظاہر ہوا کہ میں یہ آخری عشرہ اعتکاف کروں، سو جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنی اعتکاف کی جگہ میں رات گزارے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ رات دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی، سو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر مسجد ٹپکنے لگی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8589]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اکیسویں رات ہم پر بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر مسجد ٹپکنے لگی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8589]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8590
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
دراوردی یزید بن ہاد رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس حدیث کو اسی مفہوم کے ساتھ بیان کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8590]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8591
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ أَلَا تَخْرُجُ بِنَا إِلَى النَّخْلِ؟ قَالَ: نَعَمْ فَدَعَا بِخَمِيصَةٍ فَأَدْخَلَهَا عَلَيْهِ فَخَرَجْنَا فَقُلْتُ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ؟ قَالَ: نَعَمْ، اعْتَكَفْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمَّا كَانَ صَبِيحَةُ عِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ قَامَ فِينَا، فَقَالَ:" مَنْ كَانَ خَرَجَ فَلْيَرْجِعْ فَإِنِّي أُرِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَنَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي وِتْرٍ وَإِنِّي أُرِيتُ أَنِّي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ". وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَثَارَتْ سَحَابَةٌ فَمُطِرْنَا حَتَّى سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ، وَسَقْفُهُمْ يَوْمَئِذٍ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِي الطِّينِ وَالْمَاءِ حَتَّى رَأَيْتُ أَثَرَ الطِّينِ عَلَى أَرْنَبَتِهِ وَجَبْهَتِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ.
ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے قریش کے چند لوگوں میں لیلۃ القدر کا تذکرہ کیا تو میں اٹھا اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: اے ابو سعید! کیا آپ ہمارے ساتھ کھجوروں کے باغ کی طرف نہیں چلیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ انہوں نے ایک دھاری دار چادر منگوائی اور اسے اوڑھ لیا، پھر ہم نکلے تو میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کا ذکر کرتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرے کا اعتکاف کیا، جب رمضان کی بیسویں تاریخ کی صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جو نکل گیا ہو وہ لوٹ آئے، کیونکہ مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر میں اسے بھول گیا، سو تم اسے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور مجھے دکھایا گیا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں۔“ اور ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آ رہا تھا، پھر نماز کی اقامت ہوئی تو ایک بادل اٹھا اور ہم پر بارش ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چھت بہنے لگی، اور اس وقت ان کی چھت کھجور کی شاخوں کی تھی، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی اور پانی میں سجدہ کرتے دیکھا یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک کے کنارے اور پیشانی پر مٹی کا نشان دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8591]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8592
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، وَابْنُ مِلْحَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلَّا وَأَنَا مَارَّةٌ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَأُرَجِّلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِنْ كَانَ مُعْتَكِفًا. ⦗٥٢٦⦘ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ إِنْ كَانُوا مُعْتَكِفِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ إِلَّا أَنَّ الْبُخَارِيَّ لَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهَا فِي الْمَرِيضِ.
زوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں داخل نہیں ہوتی تھی مگر حاجت کے لیے، اور اگر چلتے ہوئے مریض مل جاتا تو اسے پوچھ لیتی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف اپنا سر مبارک نکالتے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں ہوتے تو میں اس کی کنگھی وغیرہ کرتی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل نہیں ہوتے تھے سوائے حاجت کے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف ہوتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8592]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 8593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَالسُّنَّةُ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَخْرُجَ إِلَّا لِحَاجَتِهِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا، وَلَا يَعُودُ مَرِيضًا وَلَا يَمَسُّ امْرَأَتَهُ وَلَا يُبَاشِرُهَا، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ وَالسُّنَّةُ فِيمَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا۔
سنتِ اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجتِ ضروریہ کے لیے، نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8593]
سنتِ اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجتِ ضروریہ کے لیے، نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 8593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني سابقاً»
الحكم على الحديث: صحيح