السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1809. -- باب: متى يدخل في اعتكافه إذا أوجب على نفسه اعتكاف شهر أو أيام
-- باب: جب کوئی شخص اپنے اوپر ایک مہینے یا چند دنوں کے اعتکاف کو واجب کر لے تو وہ اپنے اعتکاف میں کب داخل ہو؟
حدیث نمبر: 8593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ وَالسُّنَّةُ فِي الْمُعْتَكِفِ أَنْ لَا يَخْرُجَ إِلَّا لِحَاجَتِهِ الَّتِي لَا بُدَّ لَهُ مِنْهَا، وَلَا يَعُودُ مَرِيضًا وَلَا يَمَسُّ امْرَأَتَهُ وَلَا يُبَاشِرُهَا، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ جَمَاعَةٍ وَالسُّنَّةُ فِيمَنِ اعْتَكَفَ أَنْ يَصُومَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے یہاں تک کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کیا۔
سنتِ اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجتِ ضروریہ کے لیے، نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8593]
سنتِ اعتکاف یہ ہے کہ معتکف نہ نکلے مگر حاجتِ ضروریہ کے لیے، نہ ہی مریض کی تیمارداری کرے اور نہ ہی عورت کو چھوئے اور نہ ہی مباشرت کرے اور نہ ہی جامع مسجد کے بغیر اعتکاف کرے اور معتکف کے لیے یہ بھی ہے کہ وہ روزہ رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصيام/حدیث: 8593]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ معني سابقاً»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 8593 in Urdu