🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1953. -- باب: طواف النساء مع الرجال
-- باب: عورتوں کا مردوں کے ساتھ طواف کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، قَالَ:" طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةً" قَالَتْ فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ يَقْرَأُ بِ الطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیماری کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے سے طواف کر لے۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز پڑھ رہے تھے اور اس میں ﴿سورة الطور﴾ [سورة الطور: 1] پڑھ رہے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9247]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1552۔ مسلم 1276»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9248
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: قَالَ لِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ إِذْ مَنَعَ ابْنُ هِشَامٍ النِّسَاءَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ، قَالَ: كَيْفَ تَمْنَعُهُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَاءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: أَبَعَدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ؟ قَالَ: إِي لَعَمْرِي لَقَدْ أَدْرَكَتُهُ بَعْدَ الْحِجَابِ، قُلْتُ: كَيْفَ يُخَالِطْنَ الرِّجَالَ؟ قَالَ: لَمْ يَكُنْ يُخَالِطْنَ كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَطُوفُ حَجِرَةً مِنَ الرِّجَالِ لَا تُخَالِطُهُمْ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: انْطَلِقِي نَسْتَلِمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" انْطَلِقِي عَنْكِ" فَأَبَتْ فَخَرَجْنَ مُتَنَكِّرَاتٍ بِاللَّيْلِ، وَيَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ وَلَكِنَّهُنَّ ⦗١٢٨⦘ كُنَّ إِذَا دَخَلْنَ الْبَيْتَ قُمْنَ حَتَّى يَدْخُلَنْ وَأُخْرِجَ الرِّجَالُ، وَكُنْتُ آتِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَا وَعُبَيْدٌ وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ فِي جَوْفِ ثَبِيرٍ فَقُلْتُ: وَمَا حِجَابُهَا؟ قَالَ: هِيَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ لَهَا غِشَاءٌ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذَلِكَ، وَرَأَيْتُ عَلَيْهَا دِرْعًا مُوَرَّدًا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا.
جب ابن ہشام نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے روکا تو عطاء رحمہ اللہ نے کہا: تو ان کو کیسے منع کرتا ہے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے طواف کیا ہے؟ میں نے کہا: کیا حجاب (کے حکم) سے پہلے یا بعد میں؟ کہنے لگے: میری عمر کی قسم! میں نے ان کو حجاب کے بعد ہی پایا ہے۔ میں نے کہا: وہ مردوں کے ساتھ کیسے خلط ملط ہو جاتی تھیں؟ کہنے لگے کہ وہ خلط ملط نہیں ہوتی تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے دور رہ کر طواف کرتیں، ان میں نہ گھس جاتیں۔ ایک عورت نے کہا: اے ام المؤمنین! آئیں ہم استلام کریں، تو انہوں نے کہا: تو ہی چلی جا، تو اس نے انکار کیا، تو وہ رات کے وقت اجنبی بن کر نکلیں اور مردوں کے ساتھ طواف کیا، لیکن جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتیں تو کھڑی ہو جاتیں حتیٰ کہ وہ عورتیں داخل ہو جاتیں اور مردوں کو نکال دیا جاتا اور میں اور عبید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور وہ ثبیر میں بیٹھی ہوتیں، میں نے کہا: اور اس کا حجاب کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: وہ ترکی قبہ میں تھیں اور اس کا پردہ تھا، ہمارے اور ان کے درمیان اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا اور میں نے ان پر گلابی چادر دیکھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9248]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1538۔ عبدالرزاق 9018»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں