🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1952. -- باب: تعجيل الطواف بالبيت حين يدخل مكة والبيان أنه لا يحل به إذا كان حاجا أو قارنا
-- باب: جب مکہ میں داخل ہو تو بیت اللہ کے طواف میں جلدی کرنا، اور اس بات کا بیان کہ اگر وہ حاجی یا قارن ہو تو وہ اس (طواف) سے حلال نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9244
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، وَسَأَلَهُ أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ سُرَيْجٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا ابْنُ ⦗١٢٦⦘ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، يَتِيمِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟ فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ:" لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ" قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ:" بِئْسَ مَا قَالَ"، يَعْنِي فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ فَعَلَا ذَلِكَ؟ قَالَ: فَجِئْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" مَنْ هَذَا؟" فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي لَيَسْأَلَنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ:" فَإِنْ قَدْ كَذَبَ، قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِّ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ؟، وَلَا أَحَدَ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَأُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي، وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ، وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِطُولِهِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ هَكَذَا، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَصْبَغَ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ مُخْتَصَرًا دُونَ قِصَّةِ الرَّجُلِ، وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ بِطُولِهِ وَقَالَ: بَدَلَ قَوْلِهِ: لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً.
محمد بن عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عراقی آدمی نے ان سے کہا کہ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھیں جو حج کا تلبیہ کہتا ہے کہ جب وہ بیت اللہ کا طواف کرے گا تو حلال ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں تو انہیں کہنا کہ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ وہ حلال ہوجائے گا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: جس نے حج کا تلبیہ کہا ہے وہ حج مکمل کیے بغیر حلال نہیں ہوگا، میں نے کہا: ایک آدمی ایسا کہتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس نے بہت برا کہا ہے، وہ آدمی مجھے ملا اور اس نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کو ساری بات بتائی تو اس نے کہا: انہیں کہنا ایک آدمی کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کیا ہے اور اسماء رضی اللہ عنہا اور زبیر رضی اللہ عنہ کا کیا معاملہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہے؟ کہتے ہیں کہ میں آیا اور یہ بات انہیں کہی تو انہوں نے پوچھا کہ یہ کس نے کہا ہے؟ میں نے کہا: علم نہیں وہ کون ہے۔ کہنے لگے: اس کو کیا ہے کہ وہ میرے پاس آکر مجھ سے کیوں نہیں پوچھتا، لگتا ہے کہ وہ عراقی ہے۔ میں نے کہا: مجھے علم نہیں انہوں نے کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا اور مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ مکہ میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا کہ وضو کر کے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف ہی کیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ایسے ہی کیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے علاوہ کچھ نہیں، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ پھر میں نے اپنے والد زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا اس کے ساتھ اور کچھ نہ تھا، پھر میں نے مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کو دیکھا وہ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ پھر اس کے بعد کچھ نہیں تھا، پھر آخر میں میں نے اس طرح کرتے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، پھر انہوں نے اس کو عمرہ کے ساتھ نہیں توڑا اور یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے پاس ہیں، ان سے کیوں نہیں پوچھتے؟ اور جو لوگ گزر گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی جب (مکہ میں) قدم رکھتا تو بیت اللہ کے طواف سے پہلے کسی کام سے آغاز نہ کرتا، پھر وہ حلال نہ ہوتے اور میں نے اپنی والدہ اور خالہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے کہ جب وہ آتیں تو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے کچھ نہ کرتیں، پھر حلال نہ ہوتیں اور مجھے میری والدہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ اور میری خالہ رضی اللہ عنہا اور زبیر رضی اللہ عنہ اور فلاں اور فلاں صرف عمرہ کے ساتھ آئے تو جب انہوں نے رکن کو چھوا تو حلال ہو گئے اور جو اس نے کہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9244]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 135»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ:" لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ حَاجٌّ وَلَا غَيْرُ حَاجٍّ إِلَّا حَلَّ"، فَقُلْتُ لِعَطَاءٍ: مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٣٣] قُلْتُ: فَإِنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الْمُعَرَّفِ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مِنْ بَعْدِ الْمُعَرَّفِ وَقَبْلَهُ، وَكَانَ يَأْخُذُ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ. ⦗١٢٧⦘ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ فَسْخَهُمُ الْحَجَّ بِالْعُمْرَةِ كَانَ خَاصًّا لِلرَّكْبِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّ غَيْرَهُمْ إِذَا حَجُّوا، أَوْ قَرَنُوا ثُمَّ طَافُوا طَوَافَ الْقُدُومِ لَمْ يَحِلُّوا حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ النَّحْرِ، فَيَحِلِّونَ بِمَا جُعِلَ بِهِ التَّحَلُّلُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عطاء رحمہ اللہ نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: حاجی اور غیر حاجی جو بھی بیت اللہ کا طواف کرے گا، وہ حلال ہوجائے گا، تو میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ وہ یہ بات کیسے کہتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 33] کی روشنی میں: «ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ» ”پھر اس کا حلال ہونا پرانے گھر کی طرف ہے“، میں نے کہا: یہ تو عرفہ کے بعد کی بات ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: عرفہ سے پہلے بھی اور بعد بھی، اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے صحابہ کو حلال ہونے کا حکم دینے سے دلیل پکڑتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، پھر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا حج کو عمرہ کے ساتھ فسخ کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار صحابہ کے لیے خاص تھا، ان کے علاوہ دوسروں نے حج کیا یا حجِ قران کیا، پھر طوافِ قدوم کیا، پھر وہ یومِ نحر سے پہلے حلال نہیں ہوئے۔ پھر وہ ان کاموں کے ساتھ حلال ہوئے جن سے محرم حلال ہوجاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9245]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1245»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9246
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ حَدِيثًا، وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْثَرٌ أَبُو زُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيَصْلُحُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الْمَوْقِفَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَا تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّى تَأْتِيَ الْمَوْقِفَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمَوْقِفَ فَيَقُولُ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَأْخُذَ أَوْ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
وبرہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: کیا عرفات میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، تو وہ کہنے لگا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تو بیت اللہ کا طواف نہ کر حتیٰ کہ موقف میں آ، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو موقف میں آنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا تو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عمل پیرا ہونے کا زیادہ حقدار ہے یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا، اگر تو سچا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9246]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1233»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں