السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2022. -- باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك
-- باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا:" عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ" وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ" وَقَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، عَنِ اللَّيْثِ.
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف تھے، فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح جب لوگ جانے لگے تو فرمایا: ”تم سکون کو لازم پکڑو“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی کو روکنے والے تھے حتیٰ کہ محسر میں داخل ہوئے اور وہ منیٰ میں سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چھوٹی چھوٹی کنکریاں پکڑو جن سے جمرہ کو مارا جاتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کو مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9533]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1282»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9534
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ يَوْمِ النَّحْرِ:" هَاتِ فَالْقُطْ لِي حَصًى" فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ مِثْلَ حَصَى الْخَذْفِ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ، فَقَالَ:" بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، بِأَمْثَالِ هَؤُلَاءِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فَإِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نحر کے دن کی صبح فرمایا: ”آؤ اور میرے لیے کنکریاں چنو۔“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انگلیوں میں رکھ کر پھینکی جانے والی کنکریاں چنیں اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح کی، اسی طرح کی اور تم غلو سے بچو۔ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9534]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ نسائي 3057۔ ابن ماجه 3029۔ احمد 1/ 215»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9535
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ”چھوٹی کنکریاں مارنے کا حکم دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9535]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1299»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9536
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ پر چھوٹی کنکریاں مارتے دیکھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9536]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9537
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ النَّاسَ مَنَاسِكَهُمْ وَقَالَ:" ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
محمد بن ابراہیم تمیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری قوم کے ایک آدمی نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ لوگوں کو ان کے مناسک سکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: ” «خَذْف» کی طرح چھوٹی کنکریاں مارو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9537]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداؤد 1957۔ نسائي 2996»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9538
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ التَّيْمِيِّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ بِمِنًى، قَالَ: فَفُتِحَتْ أَسْمَاعُنَا حَتَّى إنْ كُنَّا لَنَسْمَعُ مَا يَقُولُ وَنَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا، قَالَ: فَطَفِقَ يُعَلِّمُنَا مَنَاسِكَنَا حَتَّى بَلَغَ الْجِمَارَ، فَقَالَ:" بِحَصَى الْخَذْفِ" وَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، قَالَ: وَأَمَرَ الْمُهَاجِرِينَ أَنْ يَنْزِلُوا فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ، وَأَمَرَ الْأَنْصَارَ فَنَزَلُوا مِنْ وَرَاءِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ نَزَلَ النَّاسُ بَعْدُ.
سیدنا عبدالرحمن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ہم منیٰ میں تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، (راوی) فرماتے ہیں کہ ہمارے کان کھول دیے گئے حتیٰ کہ ہم اپنی جگہوں پر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن رہے تھے، (راوی) کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں مناسکِ حج سکھانے لگے حتیٰ کہ جمروں کی بات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوٹی کنکریاں“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سبابہ انگلیاں ایک دوسری کے اوپر رکھیں اور مہاجرین کو حکم دیا: ”مسجد کے آگے اترو“ اور انصار کو کہا: ”وہ مسجد کے پیچھے سے اتریں“، پھر اس کے بعد دیگر لوگ اترے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9538]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَقِيهِ الْحِجَارَةَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے درمیان سے رمیٔ جمار کرتے دیکھا اور ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پتھروں سے بچا رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور جب تم جمروں کو مارو تو چھوٹی کنکریاں استعمال کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9539]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 1966۔ احمد 1/ 604»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ وَهُوَ يَقُولُ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ".
سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی رحمہ اللہ اپنی والدہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی کے درمیان سے جمروں کو مارتے ہوئے یہ کہتے سنا: ”اے لوگو! ایک دوسرے کو ہلاک نہ کرو، جب تم جمرہ کو کنکریاں مارو تو چھوٹی پتھریاں مارو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9540]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9541
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ يَعْنِي عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ" ⦗٢٠٩⦘ قَالَ الْحَجَّاجُ: وَقَالَ عَطَاءٌ: حَصَى الْخَذْفِ مِثْلُ طَرَفِ الْأُصْبُعِ، لَمْ يُثْبِتْ شَيْخُنَا أُمَّ جُنْدُبٍ، وَهِيَ أُمُّ جُنْدُبٍ قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ. قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ: سَأَلْتُ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: أُمُّهُ اسْمُهَا أُمُّ جُنْدُبٍ قُلْتُ: فَحَدِيثُ الْحَجَّاجِ، قَالَ: أَرَى أَنَّ الْحَجَّاجَ أَخَذَهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ وَأَظُنُّهُ هُوَ حَدِيثُ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أُمِّهِ.
سیدہ ام جندب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنے آپ کو جمرہ عقبہ کے پاس ہلاک نہ کرو اور چھوٹی کنکریاں لازم پکڑو۔“
حجاج کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: خذف کی کنکریاں انگلی کے پور جتنی ہوتی ہیں۔
ہمارے شیخ نے ام جندب (کا نام) پختہ طور پر ذکر نہیں کیا، اور وہ ام جندب ہی ہیں، جیسا کہ احمد بن منیع نے یزید بن ہارون سے بیان کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی والدہ کا نام ام جندب ہے۔ میں نے کہا: تو حجاج کی حدیث؟ فرمایا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے اسے یزید بن ابی زیاد سے لیا ہے اور میرا گمان ہے کہ یہ وہی سلیمان بن عمرو کی اپنی والدہ سے روایت کردہ حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9541]
حجاج کہتے ہیں: عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا: خذف کی کنکریاں انگلی کے پور جتنی ہوتی ہیں۔
ہمارے شیخ نے ام جندب (کا نام) پختہ طور پر ذکر نہیں کیا، اور وہ ام جندب ہی ہیں، جیسا کہ احمد بن منیع نے یزید بن ہارون سے بیان کیا ہے۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ان کی والدہ کا نام ام جندب ہے۔ میں نے کہا: تو حجاج کی حدیث؟ فرمایا: میرا خیال ہے کہ حجاج نے اسے یزید بن ابی زیاد سے لیا ہے اور میرا گمان ہے کہ یہ وہی سلیمان بن عمرو کی اپنی والدہ سے روایت کردہ حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9541]
تخریج الحدیث: «باطل۔ احمد 6/ 376»
الحكم على الحديث: باطل
حدیث نمبر: 9542
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْمِي الْجِمَارَ مِثْلَ بَعْرِ الْغَنَمِ" وَرُوِّينَا، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ جَمْعٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْزِلَ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْ حَيْثُ أَخَذَ أَجْزَأَهُ إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ؛ لِئَلَّا يَخْرُجَ حَصَى الْمَسْجِدِ مِنْهُ وَمِنَ الْحُشِّ؛ لِنَجَاسَتِهِ وَمِنَ الْجَمْرَةِ؛ لِأَنَّهُ حَصًى غَيْرُ مُتَقَبَّلٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا أَنَّ الْحَصَى يُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهُ مِنَ الْمَسْجِدِ.
(الف) جمیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بکری کی مینگنی جیسی کنکریاں مارتے دیکھا۔
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی، مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلا وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم کتاب الصلاة میں ابو صالح رحمہ اللہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کر چکے ہیں کہ ”کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9542]
(ب) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نیچے اترنے کو مکروہ خیال کرتے ہوئے وہ مزدلفہ ہی سے کنکریاں لے لیا کرتے تھے۔
(ج) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انہوں نے لیا ہے مگر یہ کہ وہ جہاں سے بھی لیں ان کو کفایت کر جائیں گی، مگر میں مسجد سے کنکریاں لینا مکروہ سمجھتا ہوں کہ کہیں مسجد سے ساری کنکریاں نہ نکالی جائیں اور کسی باغ یا بیت الخلا وغیرہ سے اس لیے کہ وہ نجس ہوتی ہیں اور وہیں جمرہ سے اٹھانے کو اس لیے کہ وہ غیر مقبول کنکریاں ہیں۔
(د) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم کتاب الصلاة میں ابو صالح رحمہ اللہ سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے مرفوع روایت نقل کر چکے ہیں کہ ”کنکری اس آدمی سے اپیل کرتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9542]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف