السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2022. -- باب: أخذ الحصى لرمي جمرة العقبة وكيفية ذلك
-- باب: جمرہ عقبہ کی رمی کے لیے کنکریاں لینے اور اس کے طریقہ کار کا بیان۔
حدیث نمبر: 9543
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْحَصَى الَّذِي يُرْمَى فِي الْجِمَارِ مُنْذُ قَامَ الْإِسْلَامُ، فَقَالَ:" مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ رُفِعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُمْ تُرِكَ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَسَدَّ مَا بَيْنَ الْجَبَلَيْنِ" وَرُوِّينَا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وُكِّلَ بِهِ مَلَكٌ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رَفَعَ، وَمَا لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ تَرَكَ" وَعَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْعَبْسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ، عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ، فَقَالَ لِي:" مَا تُقُبِّلَ مِنْهُ رُفِعَ، وَلَوْلَا ذَلِكَ كَانَ أَطْوَلَ مِنْ ثَبِيرٍ".
ابوطفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان کنکریوں کے بارے میں پوچھا جن کے ساتھ اسلام کے بعد جمروں کو مارا جاتا ہے تو انہوں نے کہا: ”جو ان میں سے قبول کی گئی اس کو اٹھا لیا گیا اور جو نہ کی گئی اس کو چھوڑ دیا گیا اور اگر یہ نہ ہوتا تو دونوں پہاڑوں کا درمیان بند ہو جاتا۔“
سفیان ثوری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے، اس میں سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ”ان میں سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9543]
سفیان ثوری کی روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ”اس پر ایک فرشتے کی ذمہ داری لگائی گئی ہے، اس میں سے جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے اور جو قبول نہ ہو وہ باقی چھوڑ دیا جاتا ہے۔“
ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کنکریوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ”ان میں سے جو قبول کی جاتی ہیں وہ اٹھا لی جاتی ہیں اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو یہاں یہ ثبیر پہاڑ سے بھی بلند پہاڑ بن جاتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9543]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 9544
أَخْبَرَنِي بِهَذَيْنِ الْأَثَرَيْنِ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُمَا، وَذَكَرَ حَدِيثَ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ الْحَصَى مِنْ جَمْعٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَنْزِلَ"، وَقَدْ رُوِيَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَرْفُوعًا مِنْ وَجْهٍ ضَعِيفٍ.
ایضاً
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک ضعیف سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9544]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اترنے کو مکروہ سمجھتے ہوئے پہلے ہی کنکریاں رکھ لیا کرتے تھے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث ایک ضعیف سند سے مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9544]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 9545
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الْمُسْتَمْلِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ الْأَحْجَارُ الَّتِي يُرْمَى بِهَا يُحْمَلُ فَيُحْسَبُ أَنَّهَا تَنْقَعِرُ، قَالَ:" إِنَّهُ مَا تُقُبِّلَ مِنْهَا يُرْفَعُ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَيْتَهَا مِثْلَ الْجِبَالِ" يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ، وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پتھر جن کے ساتھ مارا جاتا ہے، اٹھا لیے جاتے ہیں، سمجھا جاتا ہے کہ یہ کاٹے جاتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قبول کیا جاتا ہے وہ اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو تم ان کو پہاڑوں کی طرح دیکھتے۔“
یزید بن سنان حدیث میں قوی نہیں ہے، اور یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9545]
یزید بن سنان حدیث میں قوی نہیں ہے، اور یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9545]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ حاكم 1/ 650»
الحكم على الحديث: ضعيف