🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2062. -- باب: ترك الحائض الوداع
-- باب: حائضہ عورت کا طوافِ وداع ترک کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9760
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ سے اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9760]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9761
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ السَّقَّاءُ، وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْإِسْفَرَايِينِيَّانِ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ امْرَأَةٍ، طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ حَاضَتْ، فَقَالَ:" تَنْفِرُ"، فَقَالُوا: لَا نَأْخُذُ بِقَوْلِكَ، وَهَذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يُخَالِفُكَ، قَالَ:" إِذَا أَتَيْتُمُ الْمَدِينَةَ فَسَلُوا"، فَلَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ سَأَلُوا فَأَخْبَرُوهُمْ بِصَفِيَّةَ وَكَانَ فِيمَنْ سَأَلُوا أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَخْبَرَتْهُمْ بِصَفِيَّةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَاهُ خَالِدٌ وَقَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اہل مدینہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے یوم نحر کو بیت اللہ کا طواف کرلیا، پھر وہ حائضہ ہوگئی، تو انہوں نے فرمایا: ”وہ چلی جائے۔“ تو وہ کہنے لگے: ”ہم آپ کی بات نہیں مانتے، یہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ آپ کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب تم مدینہ جاؤ تو وہاں جا کر پوچھنا۔“ تو وہ لوگ جب مدینہ گئے تو انہوں نے پوچھا، انہوں نے ان کو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات بتائی اور جن لوگوں سے انہوں نے پوچھا تھا، ان میں سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بھی تھیں، انہوں نے بھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا والی بات ہی بتائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9761]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1671»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9762
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ:" تُقِيمُ حَتَّى تَطْهُرَ وَيَكُونُ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِذَا كَانَتْ قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ فَلْتَنْفِرْ"، فَأَرْسَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنِّي وَجَدْتُ الَّذِي قُلْتَ كَمَا قُلْتَ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ قَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَقُولَ بِمَا فِي كِتَابِ اللهِ"، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] فَقَدْ قَضَتِ التَّفَثَ وَوَفَّتِ النَّذْرَ وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ فَمَا بَقِيَ؟".
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”وہ ٹھہری رہے حتیٰ کہ پاک ہو جائے اور اس کا آخری وقت بیت اللہ کے پاس گزرے“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ یومِ نحر کو طواف کر چکی ہو تو چلی جائے“ تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ میں نے ویسے ہی پائی ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول عورتوں کے لیے جانتا ہوں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ میں کتاب اللہ کی رو سے بات کروں“، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 29] ”پھر وہ اپنی نذروں کو پورا کریں اور پرانے گھر کا طواف کریں، اس نے میل کچیل بھی اتار لی اور نذر پوری کی اور بیت اللہ کا طواف بھی کر لیا، اب کیا باقی ہے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9762]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9763
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ" وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" لَا تَنْفِرُ حَتَّى تَطْهُرَ وَتَطُوفَ بِالْبَيْتِ" ثُمَّ أَرْسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب (عورت) یومِ نحر کو طواف کر لے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ (اپنے گھر) لوٹ آئے، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ نہ لوٹے یہاں تک کہ پاک ہو جائے اور بیت اللہ کا طواف کرے۔ پھر اس کے بعد انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا۔۔۔ سابقہ حدیث کی طرح ہی حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9763]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9764
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: اخْتَلَفَ فِيهَا ابْنُ عَبَّاسٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ" يَعْنِي الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِذَا أَفَاضَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ حَاضَتْ فَلْتَنْفِرْ إِنْ شَاءَتْ"، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: إِنَّا لَا نُتَابِعُكَ إِذَا خَالَفْتَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" سَلُوا صَاحِبَتَكُمْ أُمَّ سُلَيْمٍ"، فَسَأَلُوهَا فَأَنْبَأَتْ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيِيِّ بْنِ أَخْطَبَ حَاضَتْ بَعْدَمَا طَافَتْ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ:" الْخَيْبَةُ لَكِ حَبَسْتِنَا"، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ وَأَخْبَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ" أَنَّهَا لَقِيَتْ ذَاكَ وَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ"، أَشَارَ الْبُخَارِيُّ إِلَى هَاتَيْنِ الرِّوَايَتَيْنِ وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُخْتَصَرًا.
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اختلاف کیا، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا آخری کام طوافِ بیت اللہ ہو“ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب وہ قربانی والے دن افاضہ کر چکے، پھر حائضہ ہو جائے تو وہ جا سکتی ہے۔“ اگر چاہے تو انصار نے کہا: ”ہم تیری بات نہیں مانیں گے، کیونکہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تیری مخالفت کرتے ہیں“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ام سلیم رضی اللہ عنہا سے جا کر پوچھو“، تو انہوں نے پوچھا: وہ کہنے لگیں کہ سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد یومِ نحر کو حائضہ ہو گئیں تو اس کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تیرے لیے رسوائی ہو، تو تو ہمیں روکنے والی ہے“، انہوں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوچ کا حکم دیا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوا تو مجھے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9764]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 6/ 430۔ طيالسي 1651»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں