🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2066. -- باب: ما يفسد الحج
-- باب: ان امور کا بیان جو حج کو فاسد کر دیتے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9778
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَسَوِيُّ الدَّاوُدِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ، ثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ، أَوْ زَيْدُ بْنُ نُعَيْمٍ - شَكَّ أَبُو تَوْبَةَ - أَنَّ رَجُلًا مِنْ جُذَامٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا مُحْرِمَانِ، فَسَأَلَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمَا:" اقْضِيَا نُسُكَكُمَا، وَأَهْدِيَا هَدْيًا ثُمَّ ارْجِعَا حَتَّى إِذَا جِئْتُمَا الْمَكَانَ الَّذِي أَصَبْتُمَا فِيهِ مَا أَصَبْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلَا يَرَى وَاحِدٌ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ، وَعَلَيْكُمَا حَجَّةٌ أُخْرَى فَتُقْبِلَانِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمَا بِالْمَكَانِ الَّذِي أَصَبْتُمَا فِيهِ مَا أَصَبْتُمَا فَأَحْرِمَا، وَأَتِمَّا نُسُكَكُمَا وَأَهْدِيَا" هَذَا مُنْقَطِعٌ وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ نُعَيْمٍ الْأَسْلَمِيُّ بِلَا شَكٍّ، وَقَدْ رُوِيَ مَا فِي حَدِيثِهِ أَوْ أَكْثَرُهُ ⦗٢٧٣⦘ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
یزید بن نعیم یا زید بن نعیم (راوی ابو توبہ کو شک ہے) فرماتے ہیں کہ جزام قبیلہ کے ایک مرد نے حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لی، پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: ”تم حج کے مناسک پورے کرو اور قربانی کرو، پھر تم دونوں واپس پلٹ کر اسی جگہ پہنچ جاؤ جس جگہ تم سے گناہ سرزد ہوا تھا، پھر دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو جاؤ کہ تم دونوں میں سے کوئی دوسرے کو دیکھ نہ سکے اور آئندہ سال تم پر حج کرنا لازم ہے، پھر آئندہ سال جب تم اسی جگہ پر آ جاؤ تو احرام باندھ کر مناسکِ حج ادا کرو اور قربانی دو۔“
یہ روایت منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9778]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود في المراسيل، رقم 129»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9779
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ أَصَابَ أَهْلَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِالْحَجِّ، فَقَالُوا:" يَنْفُذَانِ لِوَجْهِهِمَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا، ثُمَّ عَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ وَالْهَدْيُ"، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَإِذَا أَهَلَّا بِالْحَجِّ عَامَ قَابِلٍ تَفَرَّقَا حَتَّى يَقْضِيَا حَجَّهُمَا".
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں خبر ملی کہ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے حج کے احرام کی حالت میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لی تھی، تو انہوں نے فرمایا کہ یہ دونوں اپنی حالت پر ہی رہیں گے یہاں تک کہ حج کو مکمل کر لیں، لیکن آئندہ سال ان پر دوبارہ حج کرنا لازم ہے اور قربانی کرنا بھی، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب وہ آئندہ سال حج کا تلبیہ کہیں گے تو حج مکمل کرنے تک ایک دوسرے سے جدا رہیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9779]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ذكره مالك 854»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، قَالَ فِي مُحْرِمٍ بِحَجَّةٍ أَصَابَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي وَهِيَ مُحْرِمَةٌ قَالَ:" يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا وَعَلَيْهِمَا الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ مِنْ حَيْثُ كَانَا أَحْرَمَا، وَيَفْتَرِقَانِ حَتَّى يُتِمَّا حَجَّهُمَا" قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: وَعَلَيْهِمَا بَدَنَةٌ إِنْ أَطَاعَتْهُ أَوِ اسْتَكْرَهَهَا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمَا بَدَنَةٌ وَاحِدَةٌ.
عطاء، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میاں بیوی دونوں احرام کی حالت میں مجامعت کر لیں تو وہ دونوں حج کو پورا کریں گے، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، جہاں سے انہوں نے احرام باندھا تھا اور دونوں جدا رہیں گے جب تک وہ حج کو مکمل نہ کر لیں۔
عطاء فرماتے ہیں کہ اگر عورت نے اطاعت کی یا وہ مجبور ہوئی تب بھی دونوں میاں بیوی پر ایک قربانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9780]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جامع التحصيل، ص 237»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9781
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهِ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْفَقِيهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا، عَنِ الْمُحْرِمِ يُوَاقِعُ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: كَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَقْضِيَانِ حَجَّهُمَا، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَجِّهِمَا، ثُمَّ يَرْجِعَانِ حَلَالًا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ فَإِذَا كَانَا مِنْ قَابِلٍ حَجَّا وَأَهْدَى وَتَفَرَّقَا فِي الْمَكَانِ الَّذِي أَصَابَهَا".
یزید بن یزید بن جابر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مجاہد رحمہ اللہ سے اس محرم کے بارے میں سوال کیا جو اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھتا ہے تو انہوں نے فرمایا: ایسا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا، فرماتے ہیں: یہ دونوں (میاں بیوی) اپنے حج کو پورا کریں گے۔ (واللہ اعلم) اللہ ان کے حج کے بارے میں خوب جانتا ہے، پھر جب وہ واپس آئیں گے تو دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لیکن جب آئندہ سال ہوگا تو دونوں (میاں بیوی) دوبارہ حج کریں گے اور قربانی کریں گے اور اسی جگہ سے جدا ہوں گے جس جگہ ان سے گناہ سرزد ہوا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9781]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبه 13081»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9782
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، قَالَ:" اقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَارْجِعَا إِلَى بَلَدِكُمَا فَإِذَا كَانَ عَامُ قَابِلٍ فَاخْرُجَا حَاجَّيْنِ، فَإِذَا أَحْرَمْتُمَا فَتَفَرَّقَا وَلَا تَلْتَقِيَا حَتَّى تَقْضِيَا نُسُكَكُمَا وَأَهْدِيَا هَدْيًا" وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ" ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا أَوَّلَ مَرَّةٍ".
ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو حالتِ احرام میں اپنی بیوی سے مجامعت کر لیتا ہے کہ وہ دونوں حج کے مناسک پورے کر کے اپنے شہر کو واپس پلٹیں، لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کے لیے نکلیں، جب دونوں احرام باندھ لیں تو پھر ایک دوسرے سے حج کے پورا کرنے اور قربانی کرنے تک ملاقات نہ کریں۔
(ب) ابوطفیل رضی اللہ عنہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ پھر وہ وہاں سے تلبیہ کہیں جہاں سے انہوں نے پہلی مرتبہ کہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9782]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9783
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ: أَخْبَرَنِي وَقَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الْمَوْصِلِيُّ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو يَسْأَلُهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَةٍ فَأَشَارَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ:" اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ فَسَلْهُ" قَالَ شُعَيْبٌ: فَلَمْ يَعْرِفْهُ الرَّجُلُ فَذَهَبْتُ مَعَهُ فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ:" بَطُلَ حَجُّكَ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَمَا أَصْنَعُ؟، قَالَ:" اخْرُجْ مَعَ النَّاسِ وَاصْنَعْ مَا يَصْنَعُونَ، فَإِذَا أَدْرَكْتَ قَابِلًا فَحُجَّ وَأَهْدِ"، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَلْهُ، قَالَ شُعَيْبٌ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ لَهُ كَمَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ، فَرَجَعَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ قَالَ: مَا تَقُولُ أَنْتَ؟ فَقَالَ:" قَوْلِي مِثْلُ مَا قَالَا" هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى صِحَّةِ سَمَاعِ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو.
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے محرم کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف اشارہ کر دیا کہ ان سے پوچھو! شعیب کہتے ہیں کہ وہ ان کو جانتا نہ تھا، میں اس کے ساتھ گیا تو اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو فرمانے لگے: تیرا حج باطل ہے، تو آدمی کہنے لگا: پھر میں کیا کروں؟ فرمانے لگے: لوگوں کے ساتھ نکل کر ویسا ہی کرو جیسا لوگ کر رہے ہیں۔ جب آئندہ سال ہو تو حج اور قربانی کرنا۔ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی طرف واپس آیا اور میں بھی اس کے ساتھ تھا۔ اس نے ان کو بتایا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف روانہ کیا کہ ان سے سوال کرو تو شعیب فرماتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا۔ اس نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح جواب دیا، پھر وہ دوبارہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آئے۔ میں بھی ان کے ساتھ تھا تو جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا تھا مکمل بتا دیا۔ پھر اس نے کہا: آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: جو ان دو (یعنی ابن عمر، ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا، وہی میں کہتا ہوں۔
یہ سند صحیح ہے اور اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ شعیب بن محمد بن عبداللہ کا اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9783]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابن شيبه 1085»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9784
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو فَسَأَلَهُ عَنْ مُحْرِمٍ وَقَعَ بِامْرَأَتِهِ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، قَالَ: فَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو:" إِنْ يَكُنْ أَحَدٌ يُخْبِرُهُ فِيهَا بِشَيْءٍ فَابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يَقْضِيَانِ مَا بَقِيَ مِنْ نُسُكِهِمَا فَإِذَا كَانَ قَابِلٌ حَجَّا، فَإِذَا أَتَيَا الْمَكَانَ الَّذِي أَصَابَا فِيهِ مَا أَصَابَا تَفَرَّقَا وَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا هَدْيٌ" أَوْ قَالَ:" عَلَيْهِمَا الْهَدْيُ" قَالَ أَبُو بِشْرٍ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: هَكَذَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ.
ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بنو عبدالدار قبیلہ کے ایک آدمی سے سنا کہ ایک آدمی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے محرم آدمی کے متعلق پوچھا جو اپنی بیوی سے مجامعت کرلیتا ہے تو انہوں نے کچھ جواب نہ دیا۔ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر اس کے بارے میں کچھ بتادیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے ہیں، راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ حج کے باقی مناسک ادا کریں لیکن آئندہ سال دوبارہ حج کریں، لیکن جب اس جگہ آئیں جہاں پر ان سے گناہ سر زد ہوا تھا تو وہاں سے جدا ہوجائیں اور ان دو میں سے ہر ایک پر قربانی ہے یا فرمایا: ان دونوں پر قربانی لازم ہے۔ ابو بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بیان کیا تو وہ کہنے لگے: ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی فرماتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9784]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9785
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً أنَّ أَبَا مُحَمَّدِ بْنَ زِيَادٍ، أَخْبَرَهُمْ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا، وَامْرَأَتَهُ مِنْ قُرَيْشٍ لَقِيَا ابْنَ عَبَّاسٍ بِطَرِيقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" أَمَّا حَجُّكُمَا هَذَا فَقَدْ بَطُلَ فَحُجَّا عَامًا قَابِلًا، ثُمَّ أَهِلَّا مِنْ حَيْثُ أَهْلَلْتُمَا حَتَّى إِذَا بَلَغْتُمَا حَيْثُ وَقَعْتَ عَلَيْهَا فَفَارِقْهَا فَلَا تَرَاكَ وَلَا تَرَاهَا حَتَّى تَرْمِيَا الْجَمْرَةَ وَأَهْدِ نَاقَةً، وَلْتُهْدِ نَاقَةً".
ابوزبیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نے ان کو خبر دی کہ قریش کا ایک مرد اور عورت مدینہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ملے، اس شخص نے کہا: میں اپنی بیوی سے مجامعت کر چکا ہوں، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: تمہارا یہ حج باطل ہے اور آئندہ سال حج کرنا، پھر وہیں سے تلبیہ کہنا جہاں سے تم نے شروع کیا تھا، جب تم اس جگہ پہنچ جاؤ جہاں پر تم سے گناہ سرزد ہوا تھا تو پھر اپنی بیوی سے جدا ہو جانا، تو اس کو (بیوی) نہ دیکھے اور تیری بیوی تجھے نہ دیکھ سکے، جب تک تم رمی نہ کر لو، پھر ایک قربانی پیش کرنا اور تمہاری بیوی بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9785]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9786
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" إِذَا جَامَعَ فَعَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بَدَنَةٌ".
امام مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب وہ (محرم) مجامعت کرلیتا ہے تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے ذمہ قربانی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9786]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9787
قَالَ: وَأنبأ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" يُجْرَى بَيْنَهُمَا جَزُورٌ".
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں (میاں بیوی) کی طرف سے ایک اونٹنی کفایت کر جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9787]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں