السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2080. -- باب: من رخص في دخولها بغير إحرام وإن لم يكن محاربا
-- باب: ان کا بیان جنہوں نے بغیر احرام مکہ میں داخل ہونے کی رخصت دی ہے اگرچہ وہ جنگجو نہ ہو۔
حدیث نمبر: 9844
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَقْبَلَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِقُدَيْدٍ جَاءَهُ خَبَرٌ مِنَ الْمَدِينَةِ فَرَجَعَ فَدَخَلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ.
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ سے آتے ہوئے جب ”قدید“ نامی جگہ آئے تو ان کو مدینہ سے کوئی خبر ملی تو وہ واپس لوٹ گئے اور مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9844]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 9471»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9845
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَدْخُلُ مَكَّةَ بِغَيْرِ إِحْرَامٍ، فَقَالَ:" لَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا".
امام مالک رحمہ اللہ، ابن شہاب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوتا ہے تو فرمانے لگے: میں اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9845]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 9846
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ غَيْرِي، قَالَ: فَاصْطَدْتُ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَطْعَمْتُ أَصْحَابِي وَهُمْ مُحْرِمُونَ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْبَأْتُهُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْ لَحْمِهِ فَاضِلَةً، قَالَ:" كُلُوهُ" وَهُمْ مُحْرِمُونَ ⦗٢٩١⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ.
عبداللہ بن ابوقتادہ کو ان کے والد نے خبر دی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر غزوہ حدیبیہ میں حصہ لیا۔ میرے علاوہ دوسروں نے عمرہ کا احرام باندھا، تو میں نے وحشی گدھے کا شکار کیا اور اسے اپنے محرم ساتھیوں کو کھلا دیا۔ پھر میں نے آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور ہمارے پاس زائد گوشت بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ“ اور وہ سب محرم تھے۔
(ب) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو محمد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب ہم ”قاحہ“ نامی جگہ آئے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور بعض غیر محرم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9846]
(ب) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو محمد، حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب ہم ”قاحہ“ نامی جگہ آئے تو ہم میں سے بعض محرم تھے اور بعض غیر محرم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 9846]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1196»
الحكم على الحديث: صحيح