🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2116. -- باب: ما ورد في جزاء ما دون الحمام
-- باب: کبوتر سے چھوٹے پرندوں کی جزا کے بارے میں جو وارد ہوا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10010
رُوِّينَا عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:" كُلُّ طَيْرٍ دُونَ الْحَمَامِ فَفِيهِ قِيمَتُهُ".
ہمیں حارث بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کبوتر کے علاوہ ہر پرندے (کے شکار کی صورت) میں اس کی قیمت (بطور فدیہ ادا کرنا) لازم ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: Q10010]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أُبَيٍّ الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ الْحَذَّاءُ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ،؛ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" مَا كَانَ سُوَى حَمَامِ الْحَرَمِ فَفِيهِ ثَمَنُهُ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ".
عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حرم کے کبوتروں کے علاوہ جو بھی (پرندہ) ہو، اگر محرم اس کا شکار کر لے تو اس کی قیمت دینا ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10010]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي646»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10011
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَكَعْبِ الْأَحْبَارِ فِي أُنَاسٍ مُحْرِمِينَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ بِعُمْرَةٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ وَكَعْبٌ عَلَى نَارٍ يَصْطَلِي مَرَّتْ بِهِ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَأَخَذَ جَرَادَتَيْنِ فَقَتَلَهُمَا وَنَسِيَ إِحْرَامَهُ، ثُمَّ ذَكَرَ إِحْرَامَهُ فَأَلْقَاهُمَا فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ دَخَلَ الْقَوْمُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَدَخَلْتُ مَعَهُمْ فَقَصَّ كَعْبٌ قِصَّةَ الْجَرَادَتَيْنِ عَلَى عُمَرَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" مَنْ بِذَلِكَ لَعَلَّكَ يَا كَعْبُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" إنَّ حِمْيَرَ تُحِبُّ الْجَرَادَ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ؟" قَالَ: دِرْهَمَيْنِ، قَالَ:" بَخٍ دِرْهَمَانِ خَيْرٌ مِنْ مِائَةِ جَرَادَةٍ، اجْعَلْ مَا جَعَلْتَ فِي نَفْسِكَ".
عبداللہ بن ابی عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور کعب احبار رحمہ اللہ کے ساتھ محرم آدمیوں کے ایک گروہ میں بیت المقدس سے عمرہ کی غرض سے آئے، ہم راستہ میں تھے اور کعب آگ تاپ رہے تھے کہ ٹڈیوں کا ایک غول ان کے پاس سے گزرا، انہوں نے دو ٹڈیاں پکڑ لیں اور ان کو قتل کر دیا اور اپنے محرم ہونے کو بھول گئے۔ پھر ان کو اپنا محرم ہونا یاد آیا تو ان کو ڈال دیا۔ جب ہم مدینہ آئے تو لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ کعب نے دو ٹڈیوں والا قصہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ قصہ کس کے ساتھ پیش آیا؟ شاید اے کعب! آپ کے ساتھ؟ کہنے لگے: ہاں۔ فرمانے لگے: حمیر کے رہنے والے ٹڈی کو پسند کرتے ہیں، تم نے اپنے دل میں (اس کا فدیہ) کیا مقرر کیا ہے؟ کہنے لگے: دو درہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واہ! دو درہم تو سو ٹڈیوں سے بھی بہتر ہیں، جو تم نے اپنے دل میں مقرر کیا ہے وہی ادا کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10011]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 649»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10012
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ⦗٣٣٨⦘ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ جَرَادَةٍ، يَقْتُلُهَا وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" فِيهَا قَبْضَةٌ مِنْ طَعَامٍ وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ وَلَكِنْ وَلَوْ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَوْلُهُ:" وَلَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ" أَيْ إِنَّمَا فِيهَا الْقِيمَةُ، وَقَوْلُهُ:" وَلَوْ"، يَقُولُ: تَحْتَاطُ فَتُخْرِجُ أَكْثَرَ مِمَّا عَلَيْكَ بَعْدَ أَنْ أَعْلَمْتُكَ أَنَّهُ أَكْثَرُ مِمَّا عَلَيْكَ.
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی نے ان سے اس ٹڈی کے بارے میں سوال کیا جسے وہ احرام کی حالت میں قتل کر دے، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس میں ایک مٹھی کھانا ہے، حالانکہ (اس کے بدلے) تم ضرور مٹھی بھر ٹڈیاں لے لو گے، لیکن پھر بھی (یہی دو)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لَتَأْخُذَنَّ بِقَبْضَةِ جَرَادَاتٍ» کا معنی یہ ہے کہ اس میں صرف قیمت ہے، اور «وَلَوْ» سے مراد یہ ہے: تم احتیاط کرو اور جو تمہارے ذمہ ہے اس سے زیادہ نکال دو، اس کے بعد کہ میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ اس سے زیادہ ہے جو تمہارے ذمہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10012]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي 647»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10013
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ صَيْدِ الْجَرَادِ، فِي الْحَرَمِ، فَقَالَ:" لَا" وَنَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَمَا قُلْتَ لَهُ أَوْ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: فَإِنَّ قَوْمَكَ يَأْخُذُونَهُ وَهُمْ مُحْتَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: لَا يَعْلَمُونَ.
عطاء کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے حرم کے اندر ٹڈی کے شکار کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: نہیں، اور اس سے منع فرمایا۔ (عطاء) کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا، یا قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: آپ کی قوم کے لوگ تو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے انہیں پکڑ لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: وہ نہیں جانتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10013]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10014
قَالَ: وَأنبأ الشَّافِعِيُّ، وَأنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: مُنْحَنُونَ، قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمُسْلِمٌ: أَصْوَبُهُمَا رَوَى الْحُفَّاظُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مُنْحَنُونَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے مسلم سے، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی کی مثل روایت کیا ہے، البتہ اس میں «مُنْحَنُونَ» (جھکے ہوئے) کا لفظ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور مسلم کہتے ہیں: ان دونوں میں سے زیادہ درست «مُنْحَنُونَ» ہی ہے جو حفاظ نے ابن جریج سے روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10014]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه ابوداود 1853»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں