السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2211. -- باب: إباحة التجارة
-- باب: تجارت کے مباح (جائز) ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: Q10394
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: 29] وَقَالَ {وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا} [البقرة: 275] .
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ ”آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔“ [سورة النساء: 29]
اور فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ ”اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔“ [سورة البقرة: 275] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: Q10394]
اور فرمایا: ﴿وَأَحَلَّ اللهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ ”اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔“ [سورة البقرة: 275] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: Q10394]
حدیث نمبر: 10394
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ} [البقرة: ٥٧] قَالَ:" التِّجَارَةُ".
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ﴾ [سورة البقرة: 57] ”جو ہم نے تمہیں پاکیزہ رزق دیے ان سے کھاؤ“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ مراد تجارت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10394]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10395
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ قَالَ:" مِنَ التِّجَارَةِ".
مجاہد رحمہ اللہ اس آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ﴾ الآیۃ [سورة البقرة: 267] کے بارے میں فرماتے ہیں: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم جو پاکیزہ رزق کماتے ہو اس سے خرچ کرو، مراد تجارت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10395]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10396
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذِهِ الْآيَةِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ} [النساء: ٢٩] قَالَ:" التِّجَارَةُ رِزْقٌ مِنْ رِزْقِ اللهِ حَلَالٌ مِنْ حَلَالِ اللهِ لِمَنْ طَلَبَهَا بِصِدْقِهَا وَبِرِّهَا".
سیدنا قتادہ رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 29] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے مت کھاؤ، مگر سوداگری کر کے آپس کی خوشی سے“ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد تجارت ہے، یہ اللہ کا رزق ہے اور اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں سے ہے جو اس کو سچائی اور نیکی کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10396]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10397
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ، أَوْ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ" هَكَذَا رَوَاهُ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقَاضِي، وَغَلَطَ فِيهِ فِي مَوْضِعَيْنِ، أَحَدُهُمَا فِي قَوْلِهِ جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَالْآخَرُ فِي وَصْلِهِ، وَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ وَائِلٍ مُرْسَلًا.
جمیع بن عمیر اپنے ماموں ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سی کمائی پاکیزہ ہے یا پوچھا: افضل ہے؟ فرمایا: ”آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور نیک نیتی سے کیا ہوا سودا۔“
شریک بن عبداللہ قاضی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں دو جگہ غلطی کی ہے: ایک جمیع بن عمیر کہنے میں، حالانکہ وہ سعید بن عمیر ہیں اور دوسری اسے موصول بیان کرنے میں، حالانکہ دوسروں نے اسے وائل سے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10397]
شریک بن عبداللہ قاضی نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں دو جگہ غلطی کی ہے: ایک جمیع بن عمیر کہنے میں، حالانکہ وہ سعید بن عمیر ہیں اور دوسری اسے موصول بیان کرنے میں، حالانکہ دوسروں نے اسے وائل سے مرسل روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10397]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الحاكم2/12»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 10398
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَبُو أُمِّهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ كَسْبِ الرَّجُلِ أَطْيَبُ؟ قَالَ:" عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا وَيُقَالُ عَنْهُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" كَسْبٌ مَبْرُورٌ".
سعید بن عمیر، جن کے نانا سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہیں، سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”انسان کی کون سی کمائی پاکیزہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز خرید و فروخت۔“
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10398]
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10398]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 10399
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ، عَنْ سُفْيَانَ. وَقَالَ شَرِيكٌ: عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ - وَجُمَيْعٌ، خَطَأٌ، وَقَالَ الْمَسْعُودِيُّ: عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ -، وَهُوَ خَطَأٌ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ وَائِلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، قَالَ الْبُخَارِيُّ: أَسْنَدَهُ بَعْضُهُمْ وَهُوَ خَطَأٌ.
سعید بن عمیر اپنے چچا سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔
دوسرے راویوں نے اسے سفیان سے مرسل بیان کیا ہے۔ شریک نے کہا: وائل بن داود سے، وہ جمیع بن عمیر سے، وہ اپنے ماموں ابوبردہ سے اور جمیع (کا نام) غلط ہے۔ مسعودی نے کہا: وائل بن داود سے، وہ عبایہ بن رافع بن خدیج سے، وہ اپنے والد سے اور یہ بھی غلط ہے۔ صحیح وائل کی سعید بن عمیر سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے اسے مسند بیان کیا ہے اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10399]
دوسرے راویوں نے اسے سفیان سے مرسل بیان کیا ہے۔ شریک نے کہا: وائل بن داود سے، وہ جمیع بن عمیر سے، وہ اپنے ماموں ابوبردہ سے اور جمیع (کا نام) غلط ہے۔ مسعودی نے کہا: وائل بن داود سے، وہ عبایہ بن رافع بن خدیج سے، وہ اپنے والد سے اور یہ بھی غلط ہے۔ صحیح وائل کی سعید بن عمیر سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض نے اسے مسند بیان کیا ہے اور یہ غلط ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الحَجِّ/حدیث: 10399]