السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2211. -- باب: إباحة التجارة
-- باب: تجارت کے مباح (جائز) ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10398
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَبُو أُمِّهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ كَسْبِ الرَّجُلِ أَطْيَبُ؟ قَالَ:" عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا وَيُقَالُ عَنْهُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أِيُّ الْكَسْبِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" كَسْبٌ مَبْرُورٌ".
سعید بن عمیر، جن کے نانا سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہیں، سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”انسان کی کون سی کمائی پاکیزہ ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر جائز خرید و فروخت۔“
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10398]
یہی روایت مرسل ہونے کی صورت میں محفوظ ہے۔
(ب) سعید اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کون سی کمائی افضل ہے؟“ فرمایا: ”پاکیزہ کمائی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الحج/حدیث: 10398]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10398 in Urdu