السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2219. -- باب: الدليل على أن لا يجوز شرط الخيار في البيع أكثر من ثلاثة أيام
-- باب: اس بات کی دلیل کہ خرید و فروخت میں تین دن سے زیادہ خیار (اختیار) کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 10456
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ"، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ.
(١٠٤٥٦) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک دونوں الگ الگ نہ ہوں یا اختیاری بیع ہو۔ نافع کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے کہہ دے کہ تجھے اختیار ہے۔ [صحیح۔ مسلم ١٥٣١) [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10456]
حدیث نمبر: 10457
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، كُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَايَعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ" ⦗٤٤٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَرُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ.
(١٠٤٥٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مصراۃ (وہ جانور جس کا دودھ روکا گیا ہو) کو خریداتو اس کو تین دن کا اختیار ہے۔ اگر واپس کرنا چاہے تو کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور کا بھی دے دے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10457]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1524»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10458
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلًا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا اشْتَرَى ثَلَاثًا وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِعْ وَقُلْ لَا خِلَابَةَ" فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ: لَا خِذَابَةَ لَا خِذَابَةَ وَكَانَ يَشْتَرِي الشَّيْءَ، فَيَجِيءُ بِهِ أَهْلَهُ فَيَقُولُونَ هَذَا غَالٍ فَيَقُولُ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَنِي فِي بَيْعِي.
(١٠٤٥٨) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حبان بن منقد ایک کمزور آدمی تھا، اس کے سر پر گہرے زخم کا نشان تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو تین دن کا اختیار ہے جو چیز بھی خریدے۔ اس کی زبان بھی درست نہ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فروخت کرو اور کہہ دو: دھوکا نہیں ہے۔ میں اس سے سنتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ لاَ خِذَابَۃَ لاَ خِذَابَۃَ وہ چیز خرید کر اپنے گھر لاتے تو ان کے گھر والے کہتے: یہ مہنگی ہے، وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری بیع میں مجھے اختیار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10458]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الحاكم 2/26»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10459
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَكَأَنِّي الْآنَ أَسْمَعُهُ إِذَا ابْتَاعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ يَلُوثُ لِسَانُهُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أُصِيبَ فِي رَأْسِهِ آمَّةً فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَنَقَضَتْ عَقْلَهُ، وَكَانَ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، وَكَانَ لَا يَدَعُ التِّجَارَةَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ بَيْعٍ تَبْتَاعُهُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ" فَبَقِيَ حَتَّى أَدْرَكَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ النَّاسُ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ فَكَانَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَرَجَعَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ: لِمَ تَشْتَرِي أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: قَدْ جَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ابْتَعْتُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، فَيَقُولُونَ: ارْدُدْهُ فَإِنَّكَ قَدْ غُبِنْتَ، أَوْ قَالَ: غُشِشْتَ، فَيَرْجِعُ إِلَى بَيِّعِهِ فَيَقُولُ: خُذْ سِلْعَتَكَ وَرُدَّ دَرَاهِمِي، فَيَقُولُ: لَا أَفْعَلُ قَدْ رَضِيتُ. فَذَهَبْتَ بِهِ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَهُ بِالْخِيَارِ فِيمَا يَبْتَاعُ ثَلَاثًا فَيَرُدُّ عَلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَيَأْخُذُ سِلْعَتَهُ..
(١٠٤٥٩) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیع میں دھوکا ہوجانے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے۔ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے دھوکا نہیں۔ اس کی زبان میں لکنت تھی۔
(ب) محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان سے بیان کی تو انھوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو تھے۔ ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی۔ زبان میں لکنت ہوگئی۔ عقل کم ہوگئی۔ ان کو بیوع میں دھوکا ہوجاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔
یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر ١٣٠ سال تھی۔ حضرت عثمان کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کردیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو۔ آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سامان واپس کردیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ۔ آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کردیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10459]
(ب) محمد بن اسحاق کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان سے بیان کی تو انھوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو تھے۔ ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی۔ زبان میں لکنت ہوگئی۔ عقل کم ہوگئی۔ ان کو بیوع میں دھوکا ہوجاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے اگر تو پسند کرے تو رکھ لے اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔
یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر ١٣٠ سال تھی۔ حضرت عثمان کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہوگئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کردیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو۔ آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے تو وہ سامان واپس کردیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ۔ آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کردیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10459]
تخریج الحدیث: «حسن۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 10460
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا أَبُو الشَّيْخِ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ نَحْوَهُ.
(١٠٤٦٠) خالی [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10460]
حدیث نمبر: 10461
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ أَبُو الشَّيْخِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الرَّاسِبِيَّ النِّيلِيَّ، ثنا أَبُو مَيْسَرَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ثنا أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخِيَارُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ.
(١٠٤٦١) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اختیار تین دن تک ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10461]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10462
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ثنا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ:" مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ سَخِطَ تَرَكَ" وَرَوَاهُ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُمَرَ مُخْتَصَرًا، وَلَمْ يَقُلْ: ضَرِيرَ الْبَصَرِ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٠٤٦٢) طلحہ بن یزید بن رکانہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بیوع کے بارے میں بات کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں تمہارے لیے اس سے زیادہ وسعت نہیں پاتا جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حبان بن منقذ کو دی تھی۔ کیونکہ ان کی نظر کمزور تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن ان کے لیے مقرر کیے، اگر سامان کو پسند کریں تو رکھ لیں وگرنہ واپس کردیں۔
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عمر سے مختصر روایت کرتے ہیں انھوں نے ”ضَرِیرَ الْبَصَرِ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10462]
(ب) حبان بن واسع اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں جو حضرت عمر سے مختصر روایت کرتے ہیں انھوں نے ”ضَرِیرَ الْبَصَرِ“ کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10462]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه الدارقطني 3/54»
الحكم على الحديث: حسن