🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2221. جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال
سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q10464
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ}.
سود کی حرمت کا بیان اور یہ کہ صرف اصل مال واپس کیا جائے
اللہ کا فرمان:{ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: Q10464]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10464
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبِي، ثنا ⦗٤٥١⦘ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمِيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ فِي زَمَنِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
(١٠٤٦٤) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے خون، تمہارے مال، تم پر ایسے حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینہ میں اس دن کی حرمت ہے اور خبردار! تمہارے جاہلیت کے دور کے تمام معاملات میرے ان قدموں کے تلے رکھ دیے گئے ہیں اور جاہلیت کے خون بھی چھوڑ دیے گئے ہیں اور سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں جس کو ہذیل والوں نے قتل کردیا تھا، جب وہ بنو سعد کے اندر دودھ پی رہے تھے اور جاہلیت کے سود بھی چھوڑ دیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ مکمل چھوڑ دیا گیا۔ (١٠٤٦٥) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا شَبِیبُ بْنُ غَرْقَدَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - یَقُولُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: أَلاَ إِنَّ کُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ لَکُمْ رُئُ وسُ أَمْوَالِکُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُونَ أَلاَ وَإِنَّ کُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاہِلِیَّۃِ مَوْضُوعٌ وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْہَا دَمَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ کَانَ مُسْتَرْضَعًا فِی بَنِی لَیْثٍ فَقَتَلَتْہُ ہُذَیْلٌ اللَّہُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ۔ قَالُوا: نَعَمْ ثَلاَثًا قَالَ: اللَّہُمَّ اشْہَدْ۔ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ۔
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود ٣٣٣٤] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10464]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10465
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، اللهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثًا، قَالَ:" اللهُمَّ اشْهَدْ" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
(١٠٤٦٥) سلیمان بن عمرو اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ جاہلیت کے تمام سود چھوڑ دیے گئے، تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ خبردار! جاہلیت کے تمام خون معاف کردیے گئے اور پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے جو بنو لیث میں دودھ پلائے جا رہے تھے۔ ہذیل والوں نے ان کو قتل کردیا تھا، اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ۔ تین مرتبہ فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10465]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداود 3334»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10466
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٢٧٨] قَالَ:" كَانَ يَكُونُ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَيَقُولُ: لَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا وَتُؤَخِّرُ عَنِّي".
(١٠٤٦٦) مجاہد اللہ کے قول { وَذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰٓوا } الآیۃ (البقرۃ: ٢٧٨) اور تم چھوڑ دو جو باقی سود سے ہے۔ فرماتے ہیں: کسی آدمی کا کسی پر قرض ہوتا تو وہ اس کو یہ کہتا کہ اتنے پیسے مزید دے دینا اور اتنے وقت کے بعد دے دینا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10466]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10467
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْحَقُّ، قَالَ: أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي؟، فَإِنْ قَضَاهُ أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَزَادَهُ الْآخَرُ فِي الْأَجَلِ".
(١٠٤٦٧) زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کا دوسرے پر ایک متعین مدت پر قرض ہوتا تھا۔ جب مدت ختم ہوجاتی تو قرض دینے والا کہتا، کیا ادا کرو گے یا سود دو گے؟ اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا وگرنہ اس کے ذمہ زیادہ کردیتا اور دوسرا مدت میں اضافہ کرلیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1353»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں