السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2221. جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال
سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10467
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْحَقُّ، قَالَ: أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي؟، فَإِنْ قَضَاهُ أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَزَادَهُ الْآخَرُ فِي الْأَجَلِ".
(١٠٤٦٧) زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کا دوسرے پر ایک متعین مدت پر قرض ہوتا تھا۔ جب مدت ختم ہوجاتی تو قرض دینے والا کہتا، کیا ادا کرو گے یا سود دو گے؟ اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا وگرنہ اس کے ذمہ زیادہ کردیتا اور دوسرا مدت میں اضافہ کرلیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10467]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1353»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10467 in Urdu