🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2229. -- باب: اقتضاء الذهب من الورق
-- باب: چاندی کے بدلے سونے کا تقاضا (وصولی) کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10513
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ أَوْ قَالَ: حِينَ خَرَجَ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ" وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کر رہا تھا۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن لیتا درہم، اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا لیکن وصول دینار کرتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک پیدا ہوا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے یا کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ٹھہریے، میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا ہوں لیکن وصول دینار کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اگر اس دن کے بھاؤ کے مطابق ہو، جب تم دونوں میں جدائی نہ ہو اور تم دونوں کے درمیان کوئی چیز باقی نہ رہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10513]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 3354»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَيَجْتَمِعُ عِنْدِي مِنَ الدَّرَاهِمِ فَأَبِيعُهَا مِنَ الرَّجُلِ بِالدَّنَانِيرِ، وَيُعْطِينِيهَا لِلْغَدِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ الرَّجُلَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكُمَا لُبْسٌ" وَبِقَرِيبٍ مِنْ مَعْنَاهُ رُوِيَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِرَفْعِهِ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ بَيْنِ ⦗٤٦٧⦘ أَصْحَابِ ابْنِ عُمَرَ.
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا۔ میرے پاس درہم جمع ہو جاتے تھے۔ میں آدمی کو دیناروں کے عوض فروخت کر دیتا اور وہ مجھے صبح دیتا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو کسی شخص سے سونے اور چاندی کے بدلے سودا کرے تو اس سے جدا نہ ہونا کہ تمہارے درمیان کچھ معاملہ یا التباس ہو۔“
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگردوں میں سے اس حدیث کو مرفوع بیان کرنے میں سماک بن حرب، سعید بن جبیر سے روایت کرنے میں، منفرد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10514]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں