السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2229. -- باب: اقتضاء الذهب من الورق
-- باب: چاندی کے بدلے سونے کا تقاضا (وصولی) کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10513
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْعَقَبِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ فِي الْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ أَوْ قَالَ: حِينَ خَرَجَ مِنْ بَيْتِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ، وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ" وَبِهَذَا الْمَعْنَى رَوَاهُ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ.
(١٠٥١٣) ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کررہا تھا۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن لیتا درہم اور میں درہموں کے عوض فروخت کرنا لیکن وصول دینار کرتا۔ میرے دل میں اس کے متعلق شک پیدا ہوا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے یا کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ کے گھر سے نکلے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ٹھہریے میں سے سوال کرنا چاہتا ہوں۔ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں۔ میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا ہوں اور درہم وصول کرتا ہوں اور میں درہموں کے عوض فروخت کرتا ہوں لیکن وصول دینار کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ اگر اس دن کے بھاؤ کے مطابق ہو۔ جب دونوں میں جدائی نہ ہو اور تم دونوں کے درمیان کوئی چیز باقی ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10513]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه ابوداود 3354»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 10514
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَيَجْتَمِعُ عِنْدِي مِنَ الدَّرَاهِمِ فَأَبِيعُهَا مِنَ الرَّجُلِ بِالدَّنَانِيرِ، وَيُعْطِينِيهَا لِلْغَدِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ الرَّجُلَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكُمَا لُبْسٌ" وَبِقَرِيبٍ مِنْ مَعْنَاهُ رُوِيَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، وَالْحَدِيثُ يَنْفَرِدُ بِرَفْعِهِ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ بَيْنِ ⦗٤٦٧⦘ أَصْحَابِ ابْنِ عُمَرَ.
(١٠٥١٤) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا۔ میرے پاس درہم جمع ہوجاتے۔ میں آدمی کو دیناروں کے عوض فروخت کردیتا اور وہ مجھے صبح دیتا، میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو کسی شخص سے سونے اور چاندی کے بدلے سودا کرے تو اس سے جدا نہ ہونا کہ تمہارے درمیان کچھ معاملہ یا التباس ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10514]
تخریج الحدیث: «منكر۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: منكر