🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2228. -- باب: التقابض في المجلس في الصرف، وما في معناه من بيع الطعام بعضه ببعض
-- باب: بیعِ صرف (کرنسی کے تبادلے) میں اسی مجلس میں قبضہ کرنے، اور اسی کے ہم معنی کھانے پینے کی اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10508
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثٌ، وَأنا أَبُو بَكْرٍ، أنا الْفِرْيَابِيُّ، وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ، قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: ⦗٤٦٥⦘ أَقْبَلْتُ أَقُولُ مَنْ يَصْطَرِفُ الدَّرَاهِمَ؟، فَقَالَ طَلْحَةُ: أَرِنَا الذَّهَبَ حَتَّى يَأْتِيَ الْخَازِنُ، ثُمَّ تَعَالَ فَخُذْ وَرِقَكَ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرُدَّنَّ إِلَيْهِ ذَهَبَهُ، أَوْ لَتَنْقُدَنَّهُ وَرِقَهُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" وَقَالَ قُتَيْبَةُ: فَقَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَقَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
مالک بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے متوجہ ہو کر کہا: کون درہم خریدے گا؟ طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: سونا ہمیں دکھاؤ یہاں تک کہ ہمارا خزانچی آجائے، پھر آکر اپنی چاندی لے لینا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، اللہ کی قسم! البتہ تو ضرور اس کا سونا اسے لوٹا یا اس کی چاندی اس کے حوالے کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ: ”سونا چاندی کے بدلے فروخت کرنا سود ہے، گندم گندم کے بدلے فروخت کرنا سود ہے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے فروخت کرنا سود ہے ماسوائے نقد لین دین کے۔“ قتیبہ کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10508]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2062»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10509
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَوَّلًا قَبْلَ أَنْ نَلْقَى الزُّهْرِيَّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: أَتَيْتُ بِمِائَةِ دِينَارٍ أَبْغِي بِهَا صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: عِنْدَنَا صَرْفٌ انْتَظِرْ يَأْتِي خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ وَأَخَذَ مِنِّي الْمِائَةَ الدِّينَارِ، فَسَأَلْتُ عُمَرَ، فَقَالَ لِي عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَا تُفَارِقْهُ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا جَاءنا الزُّهْرِيُّ تَفَقَّدْتُهُ فَلَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْكَلَامَ، وَقَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا"، فَذَكَرَهُ مِثْلَهُ سَوَاءً، قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا أَصَحُّ حَدِيثٍ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا، يَعْنِي فِي الصَّرْفِ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ فِيهِ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ مُخْتَصَرًا.
مالک بن اوس بن حدثان فرماتے ہیں کہ میں سو دینار لے کر آیا، میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہمارے پاس سکے ہیں، لیکن آپ ہمارے خزانچی کا انتظار کریں وہ غابہ سے آنے والا ہے اور طلحہ نے مجھ سے سو دینار لے لیے۔ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آپ ان سے جدا نہ ہوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”سونا چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے ما سوائے نقد لین دین کے۔“ سفیان کہتے ہیں کہ جب زہری ہمارے پاس آئے تو میں نے ان کی روایت کو جانچا، انہوں نے یہ کلام ذکر نہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے مالک بن اوس بن حدثان سے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے“، پھر بالکل اسی طرح حدیث ذکر کی۔
سفیان کہتے ہیں: صرف (رقم کے تبادلے) کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث میں یہ سب سے صحیح حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10509]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الفسوي في المعرفه 1/ 355»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10510
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّهُ قَالَ: أَرَدْتُ صَرْفًا، فَقَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ: أَنَا أَصْرِفُكَ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَا وَهَا" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ:" الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ" وَرِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ فِي الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ كَمَا مَضَى.
مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رقم کا تبادلہ چاہتا تھا تو طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رقم کا تبادلہ کر دیتا ہوں لیکن (ٹھہر جاؤ) یہاں تک کہ میرا خزانچی غابہ سے واپس آ جائے۔ مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، فروخت کرنا سود ہے، ماسوائے نقد لین دین کے۔“
اسی طرح اس روایت میں ہے کہ ”چاندی چاندی کے بدلے، سونا سونے کے بدلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10510]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10511
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النِّجَادُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ثنا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ⦗٤٦٦⦘ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالذَّهَبِ أَحَدُهُمَا غَائِبٌ وَالْآخَرُ نَاجِزٌ، وَإنِ اسْتَنْظَرَكَ حَتَّى يَلِجَ بَيْتَهُ فَلَا تُنْظِرْهُ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ هَاتِ، وَهَذَا إِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمُ الرِّبَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے برابر برابر فروخت کرو، اور چاندی کو سونے کے عوض اس طرح فروخت نہ کرو کہ ایک ادھار ہو اور دوسری نقد۔ اگر وہ آپ سے گھر میں داخل ہونے کی مہلت مانگے تو اسے مہلت نہ دیں مگر نقد بنقد۔ بے شک میں تم پر سود (رماء) کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10511]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك في الموطا 812»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10512
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَبَّادٌ الْعَدَنِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا ابْنُ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا وَكِيعٌ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ وَكِيعٍ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے، چاندی چاندی کے بدلے، گندم گندم کے بدلے، جَو جَو کے بدلے، کھجور کھجور کے بدلے، نمک نمک کے بدلے، برابر برابر فروخت کرو۔ جب یہ اصناف مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو فروخت کرو، جبکہ سودا نقد ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10512]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1584»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں