🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2238. -- باب:: لا يباع المصوغ من الذهب والفضة بجنسه بأكثر من وزنه استدلالا بما مضى من الأحاديث الثابتة في الربا
-- باب: ”سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات کو ان کی جنس کے عوض ان کے وزن سے زیادہ پر فروخت نہیں کیا جائے گا“، سود کے باب میں گزر چکی ثابت احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
(١٠٥٤٧) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونا سونے کے بدلے برابر وزن ایک جیسا اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10547]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1588»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10548
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلَ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فيه فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ حَيْثُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَنَهَاهُ أَبُو الدَّرْدَاءَ وَمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ.
(١٠٥٤٨) مجاہد فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گھوم رہا تھا، ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کے زیور بناتا ہوں۔ پھر میں کچھ فروخت کرتا ہوں، اس کے وزن سے زائد پر تو میں اس میں اپنی مزدوری لے لیتا ہوں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع فرما دیا۔ سنار بار بار اپنا مسئلہ دہرا رہا تھا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کو منع کر رہے تھے۔ یہاں تک وہ مسجد کے دروازے یا اپنی سواری کے پاس آئے۔ پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ہو، ان میں تفاضل نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا عہد تمہاری طرف یہی ہے۔
(ب) معاویہ کی حدیث گزر چکی جب انھوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو ابودرداء نے منع کردیا تھا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1300»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10549
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَجْلِسُ عِنْدِي فَيُعَلِّمُنِي الْآيَةَ فَأَنْسَاهَا فَأُنَادِيهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ نُسِّيتُهَا فَيَرْجِعُ فَيُعَلِّمُنِيهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ فَأَبِيعُهُ بِوَزْنِهِ وَآخُذُ لِعُمَالَةِ يَدِي أَجْرًا، قَالَ: لَا تَبِعِ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَلَا تَأْخُذْ فَضْلًا.
(١٠٥٤٩) ابورافع فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھتے، وہ مجھے آیت سیکھاتے۔ وہ مجھے بھول گئی، میں ان کو آواز دیتا: اے امیرالمومنین! میں بھول گیا ہوں۔ وہ واپس آئے اور مجھے وہ آیت سکھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں سونے کے زیورات بناتا ہوں میں اس کے وزن کے ساتھ فروخت کردیتا ہوں۔ کیا میں اپنی مزدوری لے لیا کروں؟
انھوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10549]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں