🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2238. -- باب: : لا يباع المصوغ من الذهب والفضة بجنسه بأكثر من وزنه استدلالا بما مضى من الأحاديث الثابتة في الربا
-- باب: ”سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات کو ان کی جنس کے عوض ان کے وزن سے زیادہ پر فروخت نہیں کیا جائے گا“، سود کے باب میں گزر چکی ثابت احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10548
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلَ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فيه فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ:" الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ" وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ حَيْثُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَنَهَاهُ أَبُو الدَّرْدَاءَ وَمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ.
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھوم رہا تھا، ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کے زیور بناتا ہوں، پھر میں کچھ فروخت کرتا ہوں، اس کے وزن سے زائد پر تو میں اس میں اپنی مزدوری لے لیتا ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو منع فرما دیا۔ سنار بار بار اپنا مسئلہ دہرا رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو منع کر رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے یا اپنی سواری کے پاس آئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ہو، ان میں تفاضل نہیں ہے۔“ یہ تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا عہد تمہاری طرف یہی ہے۔
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی جب انہوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا تھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10548]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1300»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10548 in Urdu