السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2251. -- باب: ما جاء في وضع الجائحة
-- باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10628
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ، وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحَ" ⦗٤٩٩⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مُقَطَّعًا فَرَوَى حَدِيثَ النَّهْيِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَى حَدِيثَ الْجَوَائِحِ عَنْ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ وَلَمْ يُخَرِّجْهُ الْبُخَارِيُّ.
(١٠٦٢٨) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سالوں کی بیع کرنے سے منع کیا اور آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10628]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10629
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ:" أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" لَا يَزِيدُ عَلَى" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ"، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ:" وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ، فَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ وَفِي الْحَدِيثِ: أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الَّذِي لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِوَضْعِهَا عَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصُّلْحِ عَلَى النِّصْفِ، وَعَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصَّدَقَةِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَى الْخَيْرِ لَا حَتْمًا، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ غَيْرُهُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِيثُ الْمَعْنَيَيْنِ مَعًا، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَيِّهِمَا أَوْلَى بِهِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُحْكَمَ عَلَى النَّاسِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَهُمْ بِلَا خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
(١٠٦٢٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اضافہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کے دو سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10629]
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10630
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ الْجَوَائِحَ" قَالَ عَلِيٌّ: وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَضَعَ الْجَوَائِحَ كَذَا أَتَى بِهِ سُفْيَانُ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
(١٠٦٣٠) حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیمت کو کم کرنے کے بارے میں فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10630]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما مضي»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10631
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ الْمَعْنَى أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٥٠٠⦘ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَعَنْ حَسَنٍ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
(١٠٦٣١) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو نے اپنے بھائی کو پھل فروخت کیا اس میں آفت آگئی تو آپ کے لیے جائز نہیں ہے کہ آپ اس سے کچھ وصول کریں۔ آپ اپنے بھائی سے ناحق مال کیسے لیں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1554»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10632
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَلَا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا".
(١٠٦٣٢) عبداللہ بن وہب اس کی مثل ذکر کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے جائز نہیں ہے کہ آپ اس کی قیمت سے کچھ وصول کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10632]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10633
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بِمَ يَسْتَحِلُّ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ إِنْ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ مِنَ السَّمَاءِ؟" حَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ إِنْ لَمْ يَكُنْ وَارِدًا فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا كَحَدِيثِ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ فَهُوَ صَرِيحٌ فِي الْمَنْعِ مِنْ أَخْذِ ثَمَنِهَا إِنْ ذَهَبَتْ بِالْجَائِحَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
(١٠٦٣٣) حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تم اپنے بھائی کے مال کو حاصل کرو گے جب آسمان سے اس پر آفت آگئی۔
(ب) ابوزبیر کی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اگرچہ پھلوں کے پکنے کی بیع کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ جیسے مالک کی حدیث حمید عن انس۔ یہ صریح ہے کہ جب آفت آئے تو اس کی قیمت لینا ممنوع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10633]
(ب) ابوزبیر کی حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اگرچہ پھلوں کے پکنے کی بیع کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ جیسے مالک کی حدیث حمید عن انس۔ یہ صریح ہے کہ جب آفت آئے تو اس کی قیمت لینا ممنوع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10633]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 10634
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ:" الْجَوَائِحُ كُلُّ ظَاهِرٍ مُفْسِدٍ منْ مَطَرٍ، أَوْ بَرْدٍ، أَوْ جَرَادٍ، أَوْ رِيحٍ، أَوْ حَرِيقٍ".
(١٠٦٣٤) حضرت عطا فرماتے ہیں کہ جوائع، ہر ظاہر خراب کردینے والی چیز بارش، سردی، ٹڈی، ہوا، جلانا یہ سب مراد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10634]
تخریج الحدیث: «جيد۔ اخرجه ابوداود 3471»
الحكم على الحديث: جيد