السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2251. -- باب: ما جاء في وضع الجائحة
-- باب: جائحہ (آسمانی آفت سے ہونے والے نقصان) کی معافی (نقصان وضع کرنے) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10629
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَثِيرًا فِي طُولِ مُجَالَسَتِي لَهُ مَا لَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ مِنْ كَثْرَتِهِ لَا يَذْكُرُ فِيهِ:" أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" لَا يَزِيدُ عَلَى" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ"، ثُمَّ زَادَ بَعْدَ ذَلِكَ:" وَأَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ" قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ حُمَيْدٌ يَذْكُرُ بَعْدَ بَيْعِ السِّنِينَ كَلَامًا قَبْلَ وَضْعِ الْجَوَائِحِ لَا أَحْفَظُهُ، فَكُنْتُ أَكُفُّ عَنْ ذِكْرِ وَضْعِ الْجَوَائِحِ؛ لِأَنِّي لَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ الْكَلَامُ وَفِي الْحَدِيثِ: أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، زَادَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: فَقَدْ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الَّذِي لَمْ يَحْفَظْهُ سُفْيَانُ مِنْ حَدِيثِ حُمَيْدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَهُ بِوَضْعِهَا عَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصُّلْحِ عَلَى النِّصْفِ، وَعَلَى مِثْلِ أَمْرِهِ بِالصَّدَقَةِ تَطَوُّعًا حَضًّا عَلَى الْخَيْرِ لَا حَتْمًا، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَيَجُوزُ غَيْرُهُ فَلَمَّا احْتَمَلَ الْحَدِيثُ الْمَعْنَيَيْنِ مَعًا، وَلَمْ تَكُنْ فِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَيِّهِمَا أَوْلَى بِهِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُحْكَمَ عَلَى النَّاسِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِوَضْعِ مَا وَجَبَ لَهُمْ بِلَا خَبَرٍ ثَبَتَ بِوَضْعِهِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ.
(١٠٦٢٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سفیان سے بہت زیادہ مرتبہ یہ حدیث سنی، میں اس کو شمار نہیں کرسکتا۔ وہ اس میں قیمت کی کمی کا ذکر نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اضافہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کے دو سالوں کی بیع سے منع فرمایا ہے، پھر اس کے بعد زائد کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خشک سالی کی وجہ سے قیمت کم کرنے کا حکم دیا۔
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
(ب) سفیان کہتے ہیں کہ حمید پھلوں کی دو سالوں کی بیع کے بعد کلام فرماتے لیکن آفت کی وجہ سے قیمت کم کرنے کے بارے میں۔۔۔ مجھے یاد نہ تھا اس لیے میں قیمت کی کمی کے الفاظ ذکر کرنے سے رک گیا۔ کیونکہ مجھے کلام کا علم نہ تھا کہ وہ کیسی ہے اور حدیث میں آفات کی وجہ سے قیمت کم کرنا موجود ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حمید کی حدیث سیجو بات سفیان کو یاد نہیں یہ دلالت کرتی ہے کہ آپ نے اس کو قیمت کم کرنے کا حکم دیا جیسے نصف پر صلح کرلینا یا صدقہ کا حکم دینا بھلائی کی رغبت کی وجہ سے لازم نہیں۔ جو اس کے مشابہہ ہو اس کے غیر میں بھی جائز ہے۔
جب حدیث میں دونوں قسم کے احتمال موجود ہیں تو پھر دونوں میں سے بہتر کیا ہے اس پر دلالت نہیں ہوئی۔ لیکن لوگوں پر قیمت کو کم کرنا چاہیے جو ان کے لیے ضروری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10629]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10629 in Urdu