🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2282. -- باب: المرابحة
-- باب: بیعِ مرابحہ (اصل قیمت پر نفع بتا کر بیچنے) کا بیان۔
مرابحہ سے مراد ہے کہ فروخت کنندہ کوئی چیز اس وضاحت کے ساتھ بیچے کہ اس پر میری یہ لاگت آئی ہے اور اب میں اتنے منافع کے ساتھ فلاں قیمت پر بیچتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: Q10793]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10793
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيَّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ كَانَ يَشْتَرِي الْعِيرَ فَيَقُولُ:" مَنْ يُرْبِحُنِي عَقْلَهَا؟، مَنْ يَضَعُ فِي يَدِي دِينَارًا".
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب اونٹ کے قافلے کو خریدتے تو فرماتے: کون مجھے اس رسی پر ایک دینار منافع دے گا؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10793]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10794
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِزَارًا غَلِيظًا، قَالَ:" اشْتَرَيْتُ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ فَمَنْ أَرْبَحَنِي فِيهِ دِرْهَمًا بِعْتُهُ إِيَّاهُ" وَرُوِّينَا عَنْ شُرَيْحٍ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا يُجِيزُونَ بَيْعَ دَهْ دُو ازْدَهْ.
ابوبحر اپنے شیخ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان پر ایک موٹی چادر تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے پانچ درہم کی خریدی ہے، جو مجھے ایک درہم نفع دے گا میں اس کو فروخت کروں گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10794]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد في فضائل الصحابة 885»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10795
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادَةَ، أَوْ يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ دَهْ يَا زِدَهْ أَوْ دَهْ دُو ازْدَهْ وَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ بَيْعُ الْأَعَاجِمِ" وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ إِذَا قَالَ: هُوَ لَكَ بِدَهْ يَا زْدَهْ أَوْ قَالَ: بِدَهْ دُو ازْدَهْ لَمْ يُسَمِّ رَأْسَ الْمَالِ ثُمَّ سَمَّاهُ عِنْدَ النَّقْدِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن ابی زیاد یا یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ دس کی چیز گیارہ کے بدلے یا دس کی چیز بارہ کے بدلے (بیچنے) سے منع فرما رہے تھے اور فرمایا: یہ تو عجمیوں کی بیع ہے۔ یہ احتمال ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جب کہا جائے کہ آپ کے لیے دس کی چیز بارہ کے بدلے لیکن اصل مال کا نام نہیں لیتا، پھر نقدی کے موقع پر نام لیتا ہے، اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10795]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 15011»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں