السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2282. -- باب: المرابحة
-- باب: بیعِ مرابحہ (اصل قیمت پر نفع بتا کر بیچنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10795
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا ⦗٥٣٩⦘ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي زِيَادَةَ، أَوْ يَزِيدَ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ دَهْ يَا زِدَهْ أَوْ دَهْ دُو ازْدَهْ وَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ بَيْعُ الْأَعَاجِمِ" وَهَذَا يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ إِذَا قَالَ: هُوَ لَكَ بِدَهْ يَا زْدَهْ أَوْ قَالَ: بِدَهْ دُو ازْدَهْ لَمْ يُسَمِّ رَأْسَ الْمَالِ ثُمَّ سَمَّاهُ عِنْدَ النَّقْدِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبیداللہ بن ابی زیاد یا یزید نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ دس کی چیز گیارہ کے بدلے یا دس کی چیز بارہ کے بدلے (بیچنے) سے منع فرما رہے تھے اور فرمایا: یہ تو عجمیوں کی بیع ہے۔ یہ احتمال ہے کہ اس سے منع کیا گیا ہے، جب کہا جائے کہ آپ کے لیے دس کی چیز بارہ کے بدلے لیکن اصل مال کا نام نہیں لیتا، پھر نقدی کے موقع پر نام لیتا ہے، اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب البيوع/حدیث: 10795]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 15011»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 10795 in Urdu