🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2299. -- باب: النهي عن بيع العربان
-- باب: بیعِ عربان (پیشگی بیعانہ دے کر خرید و فروخت کرنے) کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10874
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ" قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: فَقَالَ لِي مَالِكٌ: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوِ الْأَمَةَ أَوْ يَتَكَارَى الْكِرَاءَ، ثُمَّ يَقُولُ لِلَّذِي اشْتَرَى أَوْ تَكَارَى مِنْهُ: أُعْطِيكَ دِينَارًا، أَوْ دِرْهَمًا، أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، أَوْ أَقَلَّ عَلَى أَنِّي إِنْ أَخَذْتُ السِّلْعَةَ، أَوْ رَكِبْتُ مَا تَكَارَيْتُ مِنْكَ فَالَّذِي أَعْطَيْتُكَ هُوَ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ، أَوْ مِنْ كِرَاءِ الدَّابَّةِ، وَإِنْ تَرَكْتُ الْبَيْتَ أَوِ الْكِرَاءَ فَمَا أَعْطَيْتُكَ فَهُوَ لَكَ بَاطِلٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ، قَالَ الشَّيْخُ: هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الْمُوَطَّأِ لَمْ يُسَمِّ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ..
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بیعانہ کی بیع سے منع فرمایا ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے مجھے کہا: اس میں جو ہمارا خیال ہے، «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”واللہ اعلم“ کہ آدمی غلام یا لونڈی خریدتا ہے یا کرایہ پر کوئی چیز لیتا ہے، پھر اس شخص سے کہتا ہے جس سے خریدا یا کرایہ پر حاصل کیا کہ میں تجھے دینار یا درہم یا اس سے زیادہ یا اس سے کم اس شرط پر دیتا ہوں کہ اگر میں نے سامان لے لیا یا جو سواری میں نے تجھ سے کرایہ پر لی ہے اس پر سوار ہوا تو جو میں نے تجھے دیا ہے وہ سامان کی قیمت یا جانور کے کرائے میں سے ہوگا، اور اگر میں بیع یا کرائے کو چھوڑ دوں تو جو میں نے تجھے دیا ہے وہ بغیر کسی عوض کے تیرا ہوگا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یہ حدیث موطا میں اسی طرح روایت کی ہے اور جس سے روایت کی اس کا نام نہیں لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10874]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه مالك 1271»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10875
وَرَوَاهُ حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، ⦗٥٦٠⦘ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ يَعْنِي الْمَاسَرْجِسِيَّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّدَفِيُّ بِمِصْرَ، ثنا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، فَذَكَرَهُ، وَيُقَالُ: لَا بَلْ أَخَذَهُ مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ.
حبیب بن ابی حبیب اس کی مثل ذکر کرتے ہیں اور کہا گیا ہے: نہیں، بلکہ مالک نے ابن لہیعہ سے لیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10875]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ انظر قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10876
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ. قَالَ: وَيُقَالُ: إِنَّ مَالِكًا سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنَ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَالْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَشْهُورٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ، ثنا قُتَيْبَةُ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، فَذَكَرَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ..
امام مالک رحمہ اللہ نے اسے ایک ثقہ راوی سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث ابن لہیعہ سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے سنی ہے، اور ابن لہیعہ عن عمرو بن شعیب والی حدیث مشہور ہے، قتیبہ نے بھی اسے ابن لہیعہ سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سے بھی، انہوں نے عمرو بن شعیب سے روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10876]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 10877
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ يَعْنِي أَبَا الشَّيْخِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَبُو مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، فَذَكَرَهُ. عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْأَشْجَعِيُّ فِيهِ نَظَرٌ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ضَعِيفٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِمَا، وَالْأَصْلُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ مُرْسَلُ مَالِكٍ.
اسی طرح (دوسری سند سے) حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب سے بھی مروی ہے۔
عاصم بن عبدالعزیز اشجعی محل نظر ہیں، حبیب بن ابی حبیب ضعیف ہیں، اور عبداللہ بن عامر اور ابن لہیعہ قابل حجت نہیں ہیں، اور اس حدیث کی اصل امام مالک کی مرسل روایت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 10877]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں