السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2357. -- باب: ما جاء في الاحتكار
-- باب: احتکار (ذخیرہ اندوزی) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11147
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَأنبأ أَبُو صَالِحِ ابْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا جَدِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أنبأ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ مَعْمَرًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ احْتَكَرَ فَهُوَ خَاطِئٌ" فَقَالَ إِنْسَانٌ لِسَعِيدٍ: فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ، فَقَالَ سَعِيدٌ: مَعْمَرٌ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ يَحْتَكِرُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ، معمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذخیرہ اندوزی کرنے والا غلط کار ہے۔“ کسی نے سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: آپ بھی تو احتکار کرتے ہیں؟ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: معمر رضی اللہ عنہ جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں وہ خود بھی ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11147]
تخریج الحدیث: «مسلم 1605»
الحكم على الحديث: مسلم 1605
حدیث نمبر: 11148
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قُمَاشٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ، أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ" فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ: وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبْدَانَ: أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عَمْرٌو: كَانَ سَعِيدٌ يَحْتَكِرُ الزَّيْتَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَصْحَابُنَا عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْنٍ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: لِلِاحْتِكَارِ تَفْصِيلٌ يُذْكَرُ فِي الْفِقْهِ، وَظَنِّي بِهِمَا أَنَّهُمَا احْتَكَرَا عَلَى غَيْرِ الْوَجْهِ الْمَنْهِيِّ عَنْهُ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُحْتَكَرَ الطَّعَامُ.
حضرت معمر بن ابی معمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذخیرہ اندوزی صرف غلط کار ہی کرتا ہے۔“ عطاء کہتے ہیں کہ میں نے سعید رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ بھی «اِحْتِكَار» (ذخیرہ اندوزی) کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معمر بھی «اِحْتِكَار» کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے کہ سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ زیتون کے تیل میں «اِحْتِكَار» کرتے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: «اِحْتِكَار» کی تفصیل کتب فقہ میں بیان کی گئی ہے اور میرا ان دونوں حضرات کے متعلق یہ گمان ہے کہ وہ ممنوع «اِحْتِكَار» نہیں کرتے تھے اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم کے «اِحْتِكَار» سے منع کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11148]
شیخ فرماتے ہیں: «اِحْتِكَار» کی تفصیل کتب فقہ میں بیان کی گئی ہے اور میرا ان دونوں حضرات کے متعلق یہ گمان ہے کہ وہ ممنوع «اِحْتِكَار» نہیں کرتے تھے اور حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گندم کے «اِحْتِكَار» سے منع کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11148]
حدیث نمبر: 11149
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْغَسِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ احْتَكَرَ يُرِيدُ أَنْ يُغَالِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِئٌ، وَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس نیت سے احتکار کرتا ہے کہ مسلمانوں پر اس کا نرخ بڑھ جائے تو ایسا انسان غلطی پر ہے۔ ایسے انسان سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہوجاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11149]
تخریج الحدیث: «اخرجه الحاكم»
الحكم على الحديث: اخرجه الحاكم
حدیث نمبر: 11150
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى أَبُو الْمُعَلَّى الْعَدَوِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: دَخَلَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: سَمِعْتُ ⦗٥٠⦘ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ دَخَلَ فِي شَيْءٍ مِنْ أَسْعَارِ الْمُسْلِمِينَ لِيُغْلِيَهُ عَلَيْهِمْ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللهِ أَنْ يَقْذِفَهُ فِي مُعْظَمٍ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" رَوَاهُ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدٍ، زَادَ فِيهِ:" رَأْسُهُ أَسْفَلَهُ".
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے مسلمانوں کے نرخوں میں کسی قسم کا دخل دیا جس سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بڑی آگ میں پھینکے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11150]
تخریج الحدیث: «مسند طياسي 970»
الحكم على الحديث: مسند طياسي 970
حدیث نمبر: 11151
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ" تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ فِي حَدِيثِهِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بازار میں چیزیں لا کر بیچنے والا رزق دیا جاتا ہے جبکہ احتکار کرنے والے پر لعنت کی جاتی ہے۔“
اسے علی بن زید سے صرف علی بن سالم نے روایت کیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی حدیث میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11151]
اسے علی بن زید سے صرف علی بن سالم نے روایت کیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کی حدیث میں ان کی متابعت نہیں کی جاتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11151]
حدیث نمبر: 11152
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى السُّوقِ فَرَأَى نَاسًا يَحْتَكِرُونَ بِفَضْلِ أَذْهَابِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ:" لَا، وَلَا نِعْمَةَ عَيْنٍ، يَأْتِينَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالرِّزْقِ حَتَّى إِذَا نَزَلَ بِسُوقِنَا قَامَ أَقْوَامٌ فَاحْتَكَرُوا بِفَضْلِ أَذْهَابِهِمْ عَنِ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ، إِذَا خَرَجَ الْجُلَّابُ بَاعُوا عَلَى نَحْوِ مَا يُرِيدُونَ مِنَ التَّحَكُّمِ، وَلَكِنْ أَيُّمَا جَالِبٍ جَلَبَ يَحْمِلُهُ عَلَى عَمُودِ كَبِدِهِ فِي الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ حَتَّى يَنْزِلَ سُوقَنَا فَذَلِكَ ضَيْفٌ لِعُمَرَ فَلْيَبِعْ كَيْفَ شَاءَ اللهُ، وَلْيُمْسِكْ كَيْفَ شَاءَ اللهُ" وَذَكَرَهُ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ مُرْسَلًا عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
ابراہیم بن عبدالرحمن بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بازار گئے تو آپ نے محسوس کیا کہ لوگ اپنے زائد سونے میں احتکار کر رہے ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہرگز نہیں، اور نہ کوئی آنکھ کی ٹھنڈک! اللہ تعالیٰ ہمارے پاس رزق لاتا ہے حتیٰ کہ جب وہ ہمارے بازار میں آتا ہے تو کچھ قومیں کھڑی ہو جاتی ہیں اور مسکینوں اور بیواؤں سے سونے کو چھپا کر رکھ لیتے ہیں، یعنی احتکار کرتے ہیں حتیٰ کہ جب بازار میں سامان لانے والا نکلتا ہے تو یہ احتکار کرنے والے اپنی مرضی کے مطابق بیچتے ہیں۔ لیکن جو تاجر گرمیوں اور سردیوں میں سامان لے کر آئے اور ہمارے بازار میں قیام کرے تو ایسا تاجر عمر کا مہمان ہے، وہ اپنا سامان بیچے جیسے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اور روک رکھے جیسے اللہ تعالیٰ چاہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ البُيُوعِ/حدیث: 11152]