السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2410. -- باب: ما يستدل به على أن الضمان لا ينقل الحق بل يزيد في محل الحق فيكون لرب المال أن يأخذهما وكل واحد منهما
-- باب: ان دلائل کا بیان جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضمانت حق کو منتقل نہیں کرتی بلکہ حق کے محل میں اضافہ کرتی ہے، پس مال کے مالک کو اختیار ہے کہ ان دونوں (مقروض اور ضامن) سے یا ان میں سے کسی ایک سے اپنا حق وصول کر لے۔
حدیث نمبر: 11401
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ قَالَ: قَالَ جَابِرٌ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَتَخَطَّى خُطًى ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْهِ دَيْنٌ؟" قُلْنَا: نَعَمْ، دِينَارَانِ، قَالَ: فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَهُمَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَقُّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقَالَ: بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ:" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟" فَقَالَ: إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ، فَعَادَ عَلَيْهِ كَالْغَدِ فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدُهُ" فَأَخْبَرَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّهُ بِالْقَضَاءِ بَرَدَ عَلَيْهِ جِلْدُهُ، وَقَوْلُهُ:" حَقُّ الْغَرِيمِ وَبَرِئَ مِنْهُمَا الْمَيِّتُ"، إِنْ كَانَ حَفِظَهُ ابْنُ عَقِيلٍ، فَإِنَّمَا عَنَى بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ لِلْغَرِيمِ مُطَالَبَتُكَ بِهِمَا وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، كَمَا لَوْ كَانَ لَهُ عَلَيْكَ حَقٌّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، وَالْمَيِّتُ مِنْهُ بَرِيءٌ، كَانَ لَهُ مُطَالَبَتُكَ بِهِ وَحْدَكَ إِنْ شَاءَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا، پھر ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ پڑھا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ قدم چلے اور پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ ہم نے کہا: جی ہاں، دو دینار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹ گئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اپنے ذمہ لے لیے، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا قرض خواہ کا حق ثابت ہو گیا اور میت ان دیناروں سے بری ہو گئی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ پھر اس کے ایک دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دو دیناروں کا کیا ہوا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کل فوت ہوا ہے“ اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے وہ دونوں ادا کر دیے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْآنَ بَرَدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ» ”اب تم نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کر دیا ہے۔“
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضا کے ساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّمَانِ/حدیث: 11401]
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضا کے ساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہو گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّمَانِ/حدیث: 11401]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11402
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ⦗١٢٣⦘ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ لَهُ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ أَقْضِيَكَهُ الْيَوْمَ، قَالَ: فَوَاللهِ لَا أُفَارِقُكَ حَتَّى تُعْطِيَنِي أَوْ تَأْتِيَ بِحَمِيلٍ يَتَحَمَّلُ عَنْكَ، قَالَ: وَاللهِ مَا عِنْدِي قَضَاءٌ، وَمَا أَجِدُ مَنْ يَتَحَمَّلُ عَنِّي، فَجَرَّهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا لَزِمَنِي وَاسْتَنْظَرْتُهُ شَهْرًا وَاحِدًا، فَأَبَى حَتَّى أَقْضِيَهُ أَوْ آتِيَهُ بِحَمِيلٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا أَجِدُ حَمِيلًا، وَلَا عِنْدِي قَضَاءٌ الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَسْتَنْظِرُهُ إِلَّا شَهْرًا وَاحِدًا؟" قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَنَا أَتَحَمَّلُ بِهَا عَنْكَ، فَتَحَمَّلَ بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَا وَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا الذَّهَبِ؟" قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ:" اذْهَبْ فَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا؛ لَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ"، قَالَ: فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْحَقَّ بَقِيَ فِي ذِمَّتِهِ بَعْدَ التَّحَمُّلِ حَتَّى أَكَّدَ عَلَيْهِ مِقْدَارَ الِاسْتِنْظَارِ، ثُمَّ إِنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوَّعَ بِالْقَضَاءِ عَنْهُ، وَتَنَزَّهَ عَنِ التَّصَرُّفِ فِي مَالِ الْمَعْدِنِ، وَاللهُ أَعْلَمُ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی پر دس دینار قرض تھے۔ اس نے اسے پکڑ لیا۔ مقروض نے کہا: میرے پاس قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، تجھے کسی اور دن دے دوں گا۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تو مجھے قرض لوٹا دے یا اپنی طرف سے ضامن پیش کر دے۔ اس نے جواب دیا: اللہ کی قسم! نہ میرے پاس قرض دینے کی کوئی چیز ہے اور نہ میں کسی ضامن کو پاتا ہوں۔ پس وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، میں ایک مہینے تک انتظار کرتا رہا، پھر اس نے انکار کر دیا یہاں تک کہ میں قرض دوں گا یا پھر کوئی ضامن پیش کروں گا۔ پس میں نے کہا: اللہ کی قسم! آج میرے پاس نہ کوئی ضامن ہے اور نہ قرض لوٹانے کی رقم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تو ایک مہینہ اور ٹھہر سکتا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری طرف سے ضامن ہوں۔“ آدمی چلا گیا، وعدے کے مطابق وہ آدمی واپس آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ سونا کہاں سے لایا ہے؟“ اس نے کہا: کان سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلا جا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اس میں کوئی خیر نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کا قرض دے دیا۔ یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ضمانت کے بعد بھی حق اس کے ذمہ میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وعدہ کرے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے قرض لوٹا دیا اور کان کے مال سے بچے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ: ”مومن آدمی کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ ادا کر دیا جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّمَانِ/حدیث: 11402]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن