السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2411. -- باب: رجوع الضامن على المضمون عنه بما غرم وضمن بأمره
-- باب: ضامن کا اس شخص کی طرف رجوع کرنے کا بیان جس کی اس نے ضمانت دی تھی، اس تاوان کے بدلے جو اس نے ادا کیا اور اس کے حکم سے ضمانت دی تھی۔
حدیث نمبر: 11403
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عِمْرَانَ الْجَبَلِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى الْقَزَّازُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِيَاسٍ اللَّيْثِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" خُذْ بِيَدِي يَا فَضْلُ"، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ:" مَنْ قَدْ كُنْتُ أَخَذْتُ لَهُ مَالًا فَهَذَا مَالِي فَلْيَأْخُذْ مِنْهُ"، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي عِنْدَكَ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ، فَقَالَ:" أَمَّا أَنَا فَلَا أُكَذِّبُ قَائِلًا، وَلَا أَسْتَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فِيمَ كَانَتْ لَكَ عِنْدِي؟" قَالَ: أَمَا تَذْكُرُ أَنَّهُ مَرَّ بِكَ سَائِلٌ فَأَمَرْتَنِي فَأَعْطَيْتُهُ ثَلَاثَةَ دَرَاهِمَ؟ قَالَ:" أَعْطِهِ يَا فَضْلُ".
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بیماری میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فضل! میرا ہاتھ پکڑو“، پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جس سے مال لیا ہو میرا یہ مال ہے وہ اس سے لے لے“۔ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے آپ پر تین درہم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ (حق کا مطالبہ) کہنے والے کو جھوٹا کہتا ہوں اور نہ اس پر قسم مانگتا ہوں جو میرے ذمہ ہے، کس چیز میں تیرے درہم میرے ذمہ ہیں؟“ اس نے عرض کیا: کیا آپ کو یاد ہے آپ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، اس نے سوال کیا تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ میں اسے تین درہم دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فضل! اسے دے دو“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الضَّمَانِ/حدیث: 11403]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف