🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2421. -- باب: فضل النيابة عمن لا يهدي
-- باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11439
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ فِيمَا أَظُنُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ الصَّانِعَ، وَتَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخَرْجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی «أَخْرَقَ» کی“، اس نے کہا: اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَكَالَةِ/حدیث: 11439]
تخریج الحدیث: «بخاري 2518، مسلم 84»

الحكم على الحديث: بخاري 2518، مسلم 84
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11440
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَ الْأَغْنِيَاءُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ:" أَلَسْتُمْ تُصَلُّونَ وَتَصُومُونَ وَتُجَاهِدُونَ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، وَهُمْ يَفْعَلُونَ كَمَا نَفْعَلُ، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ وَيُجَاهِدُونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ:" إِنَّ فِيكَ صَدَقَةً كَثِيرَةً، إِنَّ فِي فَضْلِ بَيَانِكَ عَنِ الْأَرْتَمِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ سَمْعِكَ عَلَى السَّيِّئِ السَّمْعِ تُعَبِّرُ عَنْهُ حَاجَتَهُ صَدَقَةٌ، وَفِي فَضْلِ بَصَرِكَ عَلَى ضَرِيرِ الْبَصَرِ تَهْدِيهِ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَفِي قُوَّتِكَ عَلَى الضَّعِيفِ تُعِينُهُ صَدَقَةٌ، وَفِي إِمَاطَتِكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَفِي مُبَاضَعَتِكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيُؤْجَرُ؟ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ لَوْ جَعَلْتَهُ فِي غَيْرِ حِلِّهِ أَكَانَ عَلَيْكَ وِزْرٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَفَتَحْتَسِبُونَ بِالشَّرِّ وَلَا تَحْتَسِبُونَ بِالْخَيْرِ؟" وَرُوِّينَا هَذَا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر میں بڑھ گئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نماز، روزہ اور جہاد نہیں کرتے ہو؟“ عرض کیا: کیوں نہیں، وہ بھی ایسے ہی کرتے ہیں جس طرح ہم کرتے ہیں، وہ نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور جہاد کرتے ہیں اور وہ صدقہ بھی کرتے ہیں، جبکہ ہم صدقہ نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ میں بیشمار صدقات ہیں: بیشک تیرا کسی نہ بولنے والے کی طرف سے بول دینا جس سے اس کی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور تیرا کسی نہ سننے والے کی طرف سے سن لینا جس سے اس کی کوئی حاجت پوری ہو صدقہ ہے، اور کسی نابینا کو راستہ دکھا دینا صدقہ ہے، اور تیری طاقت کا کمزور آدمی کی مدد میں لگ جانا صدقہ ہے، اور تیرا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے، اور تیرا اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے۔“ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرے اور اسے اجر بھی ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا کیا خیال ہے اگر تو اسے غیر محل میں پورا کرے تو تجھے گناہ ہوگا؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم شر کا خیال کرتے ہو اور بھلائی کا خیال نہیں کرتے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَكَالَةِ/حدیث: 11440]
تخریج الحدیث: «بخاري 843، مسلم 595»

الحكم على الحديث: بخاري 843 ، مسلم 595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں