السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2421. -- باب: فضل النيابة عمن لا يهدي
-- باب: جو شخص (نابینا ہونے وغیرہ کی وجہ سے) خود راستہ نہ پا سکتا ہو اس کی جانب سے نیابت (رہنمائی) کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 11439
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ فِيمَا أَظُنُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: فَأِيُّ الْعَتَاقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَنْفَسُهَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ؟ قَالَ:" فَتُعِينُ الصَّانِعَ، وَتَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّكَ؛ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخَرْجَاهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا“، اس نے پوچھا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی «أَخْرَقَ» کی“، اس نے کہا: اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوكالة/حدیث: 11439]
تخریج الحدیث: «بخاري 2518، مسلم 84»
الحكم على الحديث: بخاري 2518، مسلم 84
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11439 in Urdu