السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2457. -- باب: جواز الإجارة
-- باب: اجارہ (مزدوری اور کرائے پر دینے) کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 11644
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ قَبْلَكُمْ مَثْلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَقَالَ: مَنْ يَعْمَلُ مَا بَيْنَ غُدْوَةٍ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ يَعْمَلُ لِي مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا: مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلًا وَأَقَلَّ عَطَاءً؟ قَالَ: هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا؟ قَالُوا: لَا، فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ. وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ أَبِيهِ كَمَا:.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا: کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے؟ پس نصاریٰ نے کام کیا، پھر اس نے کہا: کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے؟ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا: کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا؟ تو تم نے کام کیا۔ یہود و نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے کہ ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے؟ وہ آدمی کہنے لگا: کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں، پھر وہ کہے گا: وہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں دے دیتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11644]
تخریج الحدیث: «بخاري 2268»
الحكم على الحديث: بخاري 2268
حدیث نمبر: 11645
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى انْتَصَفَ النَّهَارُ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى صَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا، ثُمَّ أُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَقَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَقَلُّ عَمَلًا وَأَكْثَرُ أَجْرًا، فَقَالَ:" هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ؟" قَالُوا: لَا، فَقَالَ:" فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَرَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ، وَأَبَيْنَ مِنْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ”تمہارا زمانہ گزرے ہوئے زمانوں کے مقابلے میں اس طرح ہے جیسے نمازِ عصر سے نمازِ مغرب کا وقت ہوتا ہے۔ اہلِ تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا اور اہلِ انجیل کو انجیل دی گئی۔ انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز ہو گئی۔ پھر وہ عاجز آگئے، پس انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا، پھر تم کو قرآن دیا گیا، پس تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب ہو گئی، پس تم کو دو دو قیراط دیے گئے۔ پس اہل تورات اور اہل انجیل نے کہا: اے ہمارے رب! ان کو عمل کم اور بدلہ زیادہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر میں کوئی کمی کی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11645]
تخریج الحدیث: «بخاري 7467»
الحكم على الحديث: بخاري 7467
حدیث نمبر: 11646
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح قَالَ: وَثنا أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْقَاسِمُ، ثنا يُوسُفُ، وَإِبْرَاهِيمُ الْجَوْهَرِيُّ، وَالْمَسْرُوقِيُّ، قَالُوا جَمِيعًا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ عَمَلًا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ثُمَّ قَالُوا: لَا حَاجَةَ لَنَا فِي أُجْرَتِكَ الَّتِي شَرَطْتَ لَنَا، ومَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، فَقَالَ لَهُمْ: لَا تَفْعَلُوا: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ثُمَّ خُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ ⦗١٩٧⦘ عَلَيْهِ، وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ فَقَالَ: اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ هَذَا وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لِهَؤُلَاءِ مِنَ الْأَجْرِ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَالُوا: مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا، لَا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ، فَقَالَ لَهُمْ: كَمِّلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ؛ فَإِنَّمَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ وَخُذُوا أَجْرَكُمْ، فَأَبَوْا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ، فَعَمِلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِم حَتَّى إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ وَالْأَجْرَ كُلَّهُ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى الَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللهُ وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هُدَى اللهِ وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مسلمانوں اور یہودیوں و عیسائیوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس نے کچھ مزدور لگائے کہ وہ صبح سے رات تک ایک معلوم معاوضے پر کام کریں گے۔ پس انہوں نے دوپہر تک کام کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی کوئی ضرورت نہیں، جو تو نے شرط لگائی ہے اور جو ہم نے کام کیا وہ بھی باطل ہے۔ پس اس نے ان کو کہا: تم ایسے نہ کرو، باقی دن بھی کام کرو، پھر اپنی مکمل اجرت لو، پس انہوں نے انکار کر دیا اور وہ چھوڑ کر چلے گئے۔ اس نے اور لوگوں کو مزدوری پر لگایا اور کہا: تم باقی دن کام کرو اور تمہارے لیے وہی ہے جو میں نے شرط لگائی ہے، پس انہوں نے کام کیا یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا، انہوں نے کہا: جو ہم نے کام کیا وہ باطل ہے اور جو اجرت تو نے ہمارے لیے مقرر کی تھی وہ بھی تیری ہی ہے، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس اس نے ان سے کہا: باقی دن بھی کام کرو، دن کا تھوڑا سا حصہ رہ گیا ہے اور اپنی اجرت لے لو۔ انہوں نے انکار کر دیا۔ اس آدمی نے ایک اور قوم کو مزدوری پر لگایا، انہوں نے باقی دن کام کیا یہاں تک کہ جب مغرب ہوئی تو انہوں نے پہلی دو جماعتوں کی اجرت پوری لے لی۔ پس یہ مثال ہے یہود و نصاریٰ کی کہ انہوں نے اس چیز کو چھوڑ دیا جو اللہ نے ان کو حکم دیا تھا اور مسلمانوں کی مثال یہ کہ انہوں نے اللہ کی ہدایت کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز لے کر آئے اسے قبول کر لیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11646]
تخریج الحدیث: «بخاري 2271»
الحكم على الحديث: بخاري 2271
حدیث نمبر: 11647
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عِيسَى بْنُ حَامِدٍ الرُّخَّجِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْوَشَّاءُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ يَتَحَامَلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ مِائَةَ أَلْفٍ" وَمَا أُرَاهُ يَعْنِي إِلَّا نَفْسَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِحَدِيثِ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَبِأَنَّ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمِلَ بِالِإجَارَةِ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں صدقہ کا حکم دیتے تو ہم میں سے بعض لوگ بازار کی طرف جاتے، بوجھ اٹھاتے اور ایک «مُدّ» (غلہ) حاصل کرتے، لیکن آج بعض ایسے ہیں جن کے پاس ایک لاکھ موجود ہیں (راوی کہتے ہیں:) میرا خیال ہے کہ وہ اس سے اپنے آپ ہی کو مراد لے رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں حنظلہ بن قیس کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت سے، اور اس بات سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی ایک نے اجارہ پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11647]
امام شافعی رحمہ اللہ نے زمین کو سونے اور چاندی کے عوض کرائے پر دینے کے بارے میں حنظلہ بن قیس کی سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت سے، اور اس بات سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کئی ایک نے اجارہ پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11647]
تخریج الحدیث: «بخاري 2273»
الحكم على الحديث: بخاري 2273
حدیث نمبر: 11648
وَذَكَرَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ" تَكَارَى أَرْضًا، فَلَمْ تَزَلْ بِيَدِهِ حَتَّى هَلَكَ، قَالَ ابْنُهُ: فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا أَنَّهَا لَهُ مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَكَرَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَيْءٍ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ".
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے زمین کرائے پر لی، وہ ان کے قبضے میں رہی، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، ان کے بیٹے نے کہا: میں نے اپنے باپ کے قبضے میں زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے گمان کیا کہ وہ ان کی ملکیت ہے، یہاں تک کہ وفات کے وقت انہوں نے بتایا اور ہمیں حکم دیا کہ سونا اور چاندی دے کر کچھ کرایہ ادا کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11648]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11649
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ يَعْنِي الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصَابَ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا لَيُصِيبَ مِنْهُ شَيْئًا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا، كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشْرَةَ تَمْرَةً عَجْوَةً، فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مِنْ أَيْنَ هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ؟" قَالَ: بَلَغَنِي مَا بِكَ مِنِ الْخَصَاصَةِ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ عَمَلًا لِأُصِيبَ لَكَ طَعَامًا، قَالَ:" فَحَمَلَكَ عَلَى هَذَا حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ؟" قَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللهِ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ إِلَّا الْفَقْرُ أَسْرَعَ إِلَيْهِ مِنْ جِرْيَةِ السَّيْلِ عَلَى وَجْهِهِ، مَنْ أَحَبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُعِدَّ تِجْفَافًا"، وَإِنَّمَا يَعْنِي الصَّبْرَ ⦗١٩٨⦘ وَرُوِيَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَى هَذِهِ الْقِصَّةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ مشکل پیش آئی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کا پتا چلا، وہ کام کی تلاش میں نکلے تاکہ کچھ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے اور سترہ ڈول پانی دیا، ہر ڈول کے بدلے کھجوریں تھیں، یہودی نے سترہ عجوہ کھجوریں دے دیں، وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوالحسن! یہ کہاں سے لائے ہو؟“ فرمانے لگے: مجھے پتا چلا تھا کہ آپ تنگی میں ہیں، اے اللہ کے نبی! میں نکلا اور میں کام تلاش کرنے لگا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا لاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نے اس چیز پر ابھارا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے تو فقر و فاقہ اس کی طرف بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ جلدی آتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے وہ جفاکشی (یعنی صبر) کے لیے تیار ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11649]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 11650
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ مُجَاهِدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ مُعْتَجِرًا بِبُرْدٍ مُشْتَمِلًا فِي خَمِيصَةٍ فَقَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ {فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ} [الذاريات: ٥٤] لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَّا إِلَّا أَيْقَنَ بِالْهَلَكَةِ؛ إِذْ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَلَّى عَنَّا حِينَ نَزَلَتْ" وَذَكَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ مَرَّ بِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَبَيْنَ يَدَيْ بَابِهَا طِينٌ، قُلْتُ:" تُرِيدِينَ أَنْ تَبُلِّي هَذَا الطِّينَ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، فَشَارَطْتُهَا عَلَى كُلِّ ذَنُوبٍ بِتَمْرَةٍ، فَبَلَلْتُهُ لَهَا وَأَعْطَتْنِي سِتَّ عَشْرَةَ تَمْرَةً، فَجِئْتُ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرُوِيَ عَنْ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي نَزْعِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِيَهُودِيٍّ كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي اسْتِقَاءِ رَجُلٍ غَيْرِ مُسَمًّى.
مجاہد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے دھاری دار چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگے: جب یہ آیت ﴿فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَا أَنْتَ بِمَلُومٍ﴾ [سورة الذاريات: 54] (پس آپ ان سے منہ پھیر لیں۔ آپ قابل ملامت نہیں ہیں) نازل ہوئی تو ہم میں سے ہر ایک کو فوت ہونے کا یقین ہوگیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ آپ ہم سے منہ پھیر لیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ایک انصاری عورت کے پاس سے گزرے اور اس کے دروازے کے سامنے مٹی تھی۔ میں نے کہا: تو اسے گوندھنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ میں نے شرط لگائی کہ ہر ڈول کے بدلے کھجور دے۔ میں نے اس مٹی کو گوندھا اور اس نے مجھے سولہ کھجوریں دیں۔ میں وہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہودی کے باغ کو پانی لگایا اور ہر ڈول کے بدلے کھجور لی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُسَاقَاةِ/حدیث: 11650]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف