🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2519. -- باب: ما جاء في تفسير العمرى والرقبى التي وردت في الأخبار المطلقة
-- باب: مطلق احادیث میں وارد ہونے والے عمریٰ اور رقبیٰ کی تفسیر کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" تَأْوِيلُ الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرَكَ، أَوْ يَقُولَ لَهُ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرِي" قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي تَفْسِيرِ الْعُمْرَى بِمِثْلِ ذَلِكَ أَوْ نَحْوِهِ.
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عُمْرٰی» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک تو زندہ رہے یا یہ کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی «عُمْرٰی» کی تفسیر کے بارے میں اسی طرح منقول ہے۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُقْبٰی» کے بارے میں ابوزبیر رحمہ اللہ نے کہا: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ تیرا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ کوئی کہے: یہ فلاں کے لیے ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو فلاں کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11990]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 11991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ:" الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ: هُوَ لِآخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنِّي وَمِنْكَ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَذْهَبُ فِي الْقَدِيمِ إِلَى ظَاهِرِ مَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنْ جَعَلَهَا لَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ عَقِبَهُ، قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هِيَ بَاطِلَةٌ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ: إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ رَجَعَتْ إِلَى الْمُعْمِرِ، ثُمَّ ذَهَبَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَعَلَهَا لَهُ حَيَاتَهُ وَسَلَّمَهَا إِلَيْهِ كَانَتْ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، وَهَذَا هُوَ الْمَذْهَبُ، وَكَذَلِكَ فِي الرُّقْبَى.
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے کہے: وہ تیرا ہے جب تک تو زندہ ہے۔ جب اسی طرح کہے تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی کہے: وہ دونوں میں سے بعد میں فوت ہونے والے کا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم مذہب زہری کی روایت کے ظاہر کے مطابق یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دے۔ اگر اس نے ورثاء کا ذکر نہ کیا تو ایک جگہ پر کہا کہ یہ باطل ہے اور دوسری جگہ پر کہا: جب معمَر (جسے دیا گیا) فوت ہو جائے تو واپس معمِر (دینے والے) کی طرف لوٹ آئے گا، پھر ان کا جدید مذہب یہ ہے کہ جب اس نے اس کی زندگی میں دے دیا اور اس کے سپرد کر دیا تو وہ اس کا اور اس کے ورثاء کا ہو گا۔ یہی مذہب ہے اور رقبیٰ میں بھی اسی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 11991]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 3560»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں