السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2519. -- باب: ما جاء في تفسير العمرى والرقبى التي وردت في الأخبار المطلقة
-- باب: مطلق احادیث میں وارد ہونے والے عمریٰ اور رقبیٰ کی تفسیر کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 11990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" تَأْوِيلُ الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرَكَ، أَوْ يَقُولَ لَهُ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرِي" قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي تَفْسِيرِ الْعُمْرَى بِمِثْلِ ذَلِكَ أَوْ نَحْوِهِ.
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عُمْرٰی» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک تو زندہ رہے یا یہ کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی «عُمْرٰی» کی تفسیر کے بارے میں اسی طرح منقول ہے۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُقْبٰی» کے بارے میں ابوزبیر رحمہ اللہ نے کہا: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ تیرا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ کوئی کہے: یہ فلاں کے لیے ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو فلاں کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11990]
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُقْبٰی» کے بارے میں ابوزبیر رحمہ اللہ نے کہا: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ تیرا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ کوئی کہے: یہ فلاں کے لیے ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو فلاں کے لیے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الهبات/حدیث: 11990]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 11990 in Urdu