السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2526. -- باب: ذكر الخبر الذي روي: " من أهديت له هدية وعنده ناس فهم شركاء فيها " قال البخاري: لم يصح ذلك
-- باب: اس روایت کا ذکر جو بیان کی گئی ہے: ”جسے کوئی ہدیہ دیا جائے اور اس کے پاس لوگ بیٹھے ہوں تو وہ بھی اس میں شریک ہیں“ امام بخاری نے فرمایا: یہ صحیح نہیں ہے
حدیث نمبر: 12036
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ وَعِنْدَهُ نَاسٌ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِيهَا" وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عَمْرٍو، وَفِيهِ نَظَرٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ہدیہ دیا گیا اور اس کے پاس لوگ ہوں تو وہ اس میں شریک ہوں گے۔“
یہ روایت عمرو سے ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور اس میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12036]
یہ روایت عمرو سے ایک اور سند سے بھی مروی ہے اور اس میں کلام ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12036]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12037
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَنْصُورٍ الْمُذَكِّرُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ السِّمْنَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُهْدِيَ إِلَيْهِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ فَهُمْ شُرَكَاءُ" وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْأَزْهَرِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ فَذَكَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا غَيْرَ مَرْفُوعٍ، وَهُوَ أَصَحُّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے ہدیہ دیا جائے اور اس کے پاس اور لوگ ہوں تو وہ بھی اس ہدیہ میں شریک ہوں گے۔“
احمد بن یوسف نے اسے عبدالرزاق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، مرفوع نہیں، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12037]
احمد بن یوسف نے اسے عبدالرزاق سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف (ان کا اپنا قول) روایت کیا ہے، مرفوع نہیں، اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12037]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن