السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2525. -- باب: شكر المعروف
-- باب: احسان کا شکر ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرٌ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعْطَى عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ؛ فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَابِرٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے عطیہ دیا جائے وہ اسے قبول کر لے اور اس کا بدلہ بھی دے۔ اگر وہ بدلہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس کی تعریف کرے۔ جس نے اس کی تعریف کی گویا کہ اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا پس اس نے اس کی ناشکری کی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12030]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الزَّاهِدُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُوتِيَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَوَجَدَ فَلْيُكَافِئْهُ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ؛ فَإِنَّ مَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَ كَانَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی اچھی چیز دی جائے وہ اسے قبول کر لے، پھر اس کا بدلہ بھی دے اور جو بدلہ کی طاقت نہ رکھے وہ اس کی تعریف کرے۔ جس نے تعریف کی گویا کہ اس نے شکریہ ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا گویا کہ اس نے ناشکری کی اور جس نے کسی چیز کو تحفہ کے طور پر ظاہر کیا حالانکہ تحفہ نہ دی گئی ہو تو گویا کہ اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12032
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَشْكُرُ اللهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ" رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُهُ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر گزار بندہ نہیں بن سکتا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12032]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ احمد 7495۔ ابوداود4811»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12033
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَشْكَرُ النَّاسِ لِلَّهِ أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ".
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے اللہ کا زیادہ شکر گزار وہ ہے جو ان میں سے لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12033]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 22182»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12034
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ الْمُهَاجِرُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمُ الْمَدِينَةَ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ، وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً مِنْ قَلِيلٍ، قَدْ كَفَوْنَا الْمُؤْنَةَ، وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَأِ، فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَكُونُوا يَذْهَبُونَ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ بِهِ عَلَيْهِمْ، وَدَعَوْتُمُ اللهَ لَهُمْ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم مدینہ میں جن کے پاس آئے ہیں ان جیسی قوم ہم نے نہیں دیکھی جو زیادہ مال اور زیادہ اچھا خرچ کرنے والی ہو اور نہ تھوڑے مال سے حسنِ مواساۃ رکھنے والی ہو۔ انہوں نے ہمیں کام کرنے سے روک دیا اور راحت و آرام میں ہمیں شریک کیا، ہمیں ڈر ہے کہ وہ سارا اجر لے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو اور اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12034]
تخریج الحدیث: «احمد 13106۔ الترمذي 2487»
الحكم على الحديث: احمد 13106
حدیث نمبر: 12035
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ ⦗٣٠٣⦘ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَهَبَتِ الْأَنْصَارُ بِالْأَجْرِ كُلِّهِ، قَالَ:" لَا مَا دَعَوْتُمُ اللهَ لَهُمْ، وَأَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین نے کہا: اے اللہ کے رسول! انصار سارا اجر لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک تم ان کے لیے اللہ سے دعا کرتے رہو اور ان کی تعریف کرتے رہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الهِبَاتِ/حدیث: 12035]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري في الادب المفرد 217»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري في الادب المفرد 217