🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2552. -- باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12218
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْيَزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ ⦗٣٥٥⦘ الْمُسَيِّبِ، فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا قَالَ:" فَلَمْ يَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى جَاءَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَاتَلَهُ، فَقُتِلَ شَهِيدًا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِيمَا يُثْبِتُ أَصْحَابُنَا فِي بَنَاتِ مَحْمُودِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَقُتِلَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَقِيلَ: نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ فِي بَنَاتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَهَذَا كُلُّهُ بَعْدَ أَمْرِ ثَابِتِ بْنِ الدَّحْدَاحَةِ قَالَ الشَّيْخُ: فِيمَا ذَكَرْنَا مِنْ حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَوْلِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَكَيْفَ الْمِيرَاثُ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهَا نَزَلَتْ بَعْدَ أُحُدٍ، فَإِنَّ قَبْلَ أُحُدٍ كَانَ أَبُوهُ حَيًّا، وَإِنَّمَا قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَخَلَّفَ جَابِرًا وَبَنَاتٍ لَهُ، فَحِينَ مَرِضَ جَابِرٌ كَانَ لَهُ أَخَوَاتٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَبٌ وَلَا وَلَدٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا يَرِثُنِي كَلَالَةٌ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّمَا نَزَلَتْ فِيهِ آيَةُ الْفَرَائِضِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَنَزَلَتِ الَّتِي فِي أَوَّلِهَا فِي ابْنَتَيْ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن دحداح تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ قریش کے کفار آگئے احد کے دن۔ وہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ان سے لڑے اور شہید کردیے گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: فرائض کی آیت محمود بن سلمہ کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی، وہ خیبر کے دن فوت ہوگئے تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ سب ثابت بن دحداح کے معاملے کے بعد کی باتیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جو ہم نے ذکر کی ہے ان کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا کہ کلالہ میرا وارث بنا ہے، پس میراث کیسے تقسیم ہوگی تو آیت فرائض نازل ہوئی، یہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت فرائض احد کے بعد نازل ہوئی۔ اس لیے کہ احد سے پہلے ان کے والد زندہ تھے اور احد کے دن وہ شہید کردیے گئے اور انہوں نے جابر اور اپنی بیٹیوں کو چھوڑا تھا، جب جابر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی بہنیں تھیں، نہ ان کے باپ تھے اور نہ اولاد تو کہا: میں نے کلالہ کو وارث بنایا ہے، پس آیت فرائض نازل ہوئی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے بارے میں وہ آیت فرائض نازل ہوئی جو ﴿سورة النساء﴾ کے آخر میں ہے اور وہ آیت فرائض جو شروع میں ہے وہ سعد بن ربیع کی بیٹیوں کے بارے میں نازل ہوئی جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12218]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12219
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ، ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ الزَّمِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ شَهِيدًا يَوْمَ أُحُدٍ، وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا اسْتِفَاءً، وَلَمْ يَتْرُكْ لَهُمَا مَالًا، وَلَا تُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقْضِي اللهُ فِي ذَلِكَ"، فَأَنْزَلَ اللهُ الْمِيرَاثَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَمِّهِمَا فَدَعَاهُ فَقَالَ:" أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ جو سعد سے تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دونوں سعد کی بیٹیاں ہیں، ان کا باپ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیا گیا تھا، اور ان کے چچا نے ان دونوں کا مال بھی لے لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا اور یہ دونوں مال کے بغیر شادی بھی نہیں کر سکتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے آیت المیراث نازل فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کو بلایا اور فرمایا: ”سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دو اور ان کی والدہ کو آٹھواں حصہ دو اور باقی تیرے لیے ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12219]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12220
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أُتِيَ زِيَادٌ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ عَمَّتَهُ وَخَالَتَهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ كَيْفَ قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيهَا؟" قَالُوا: لَا، فَقَالَ:" ⦗٣٥٦⦘ وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِقَضَاءِ عُمَرَ فِيهَا جَعَلَ الْعَمَّةَ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَالْخَالَةَ بِمَنْزِلَةِ الْأُخْتِ، فَأَعْطَى الْعَمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، وَالْخَالَةَ الثُّلُثَ" وَرَوَاهُ الْحَسَنُ وَجَابِرُ بْنُ زَيْدٍ وَبَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ وَغَيْرُهُمْ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ لِلْعَمَّةِ الثُّلُثَيْنِ، وَلِلْخَالَةِ الثُّلُثَ وَجَمِيعُ ذَلِكَ مَرَاسِيلُ، وَرِوَايَةُ الْمَدَنِيِّينَ عَنْ عُمَرَ أَوْلَى أَنْ تَكُونَ صَحِيحَةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: زیاد کے پاس ایک ایسے آدمی کا (کیس) لایا گیا جو فوت ہو چکا تھا اور اس نے (ورثاء میں) پھوپھی اور خالہ چھوڑی تھی۔ انہوں نے کہا: کیا تم جانتے ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں کیسے فیصلہ کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ زیاد نے کہا: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، انہوں نے پھوپھی کو بھائی کی جگہ رکھا اور خالہ کو بہن کی جگہ رکھا، پس پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا۔
حسن، جابر بن زید، بکر بن عبداللہ مزنی اور دیگر نے روایت کیا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھوپھی کو دو تہائی اور خالہ کو ایک تہائی دیا، اور یہ سب مرسل روایات ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اہل مدینہ کی روایت صحیح ہونے کے زیادہ لائق ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12220]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ، وَالْعَمَّةُ بِمَنْزِلَةِ الْأَبِ، وَابْنَةُ الْأَخِ بِمَنْزِلَةِ الْأَخِ، وَكُلُّ ذِي رَحِمٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّحِمِ الَّتِي تَلِيهِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ ذُو قَرَابَةٍ" وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنْزِلُوهُمْ مَنَازِلَ آبَائِهِمْ، يَقُولُ: وَرِّثْ كُلَّ إِنْسَانٍ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ.
مسروق عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ خالہ ماں کی مانند ہے اور پھوپھی باپ کی جگہ ہے اور بھتیجی بھائی کی جگہ ہے اور ہر محرم رشتہ دار دوسرے ذی رحم کی جگہ پر ہوگا، جو اس سے ملتا ہے جب کوئی قرابت دار وارث نہ ہو۔
(ب) مسروق فرماتے ہیں کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو باپ کی جگہ پر رکھو، وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کو اس کے باپ کی جگہ پر وارث بناؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12221]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12222
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، كَانَ عَلِيٌّ وَعَبْدُ اللهِ" إِذَا لَمْ يَجِدُوا ذَا سَهْمٍ أَعْطَوَا الْقَرَابَةَ أَعْطَوْا بِنْتَ الْبِنْتِ الْمَالَ كُلَّهُ، وَالْخَالَ الْمَالَ كُلَّهُ، وَكَذَلِكَ ابْنَةُ الْأَخِ، وَابْنَةَ الْأُخْتِ لِلْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ، أَوْ لِلْأَبِ، وَالْعَمَّةَ، وَابْنَةَ الْعَمِّ، وَابْنَةَ بِنْتِ الِابْنِ، وَالْجَدَّ مِنْ قِبَلِ الْأُمِّ، وَمَا قَرُبَ أَوْ بَعُدَ إِذَا كَانَ رَحِمًا فَلَهُ الْمَالُ إِذَا لَمْ يُوجَدْ غَيْرُهُ، فَإِنْ وُجِدَ ابْنَةُ بِنْتٍ وَابْنَةُ أُخْتٍ فَالنِّصْفُ وَالنِّصْفُ، وِإِنْ كَانَتْ عَمَّةٌ وَخَالَةٌ فَالثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ، وَابْنَةُ الْخَالِ وَابْنَةُ الْخَالَةِ الثُّلُثُ وَالثُّلُثَانِ".
مغیرہ رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما جب کوئی حصہ دار نہ پاتے تو قرابت دار کو دے دیتے، انہوں نے نواسی کو سارا مال دیا اور ماموں کو بھی سارا مال دیا، اس بھتیجی اور بھانجی کو، جو ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے، اسے بھی مال دیا اور پھوپھی اور چچا کی بیٹی اور پوتی کی بیٹی اور نانا، جو قریب سے ہو یا دور سے، جب محرم ہو ان سب کو کسی کے نہ ہونے کی صورت میں مال دیا، اگر نواسی پائی جائے اور بھانجی پائی جائے تو نصف نصف دیا جائے گا اور اگر پھوپھی اور خالہ ہوں تو ایک تہائی اور دو تہائی ہوگا اور ماموں کی بیٹی اور خالہ کی بیٹی کو ایک تہائی اور دو تہائی دیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12222]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»

الحكم على الحديث: ضعيف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں